فلسطینی اتھارٹی کے لیے ہنگامی مالیاتی پائیداری اتحاد کا قیام

پائیدار مالیاتی طریقہ کار کی حکمتِ عملی – فلسطینی محصولات کی تمام رقوم کی فوری رہائی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

سعودی عرب، بیلجیم، ڈنمارک، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، جاپان، ناروے، سلووینیا، اسپین، سوئٹزر لینڈ اور برطانیہ نے فلسطینی اتھارٹی کے لیے ہنگامی مالیاتی پائیداری اتحاد کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

یہ اتحاد فلسطینی اتھارٹی کو درپیش بے مثال مالی بحران کا جواب ہے، جس کا مقصد اس کے مالی حالات کو سنبھالنا، حکومتی خدمات اور امن و امان کو برقرار رکھنا ہے۔ سعودی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ سب عوامل خطے کے استحکام اور دو ریاستی حل کے تحفظ کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

وزارتِ خارجہ نے مزید بتایا کہ اتحاد میں دنیا کے مختلف خطوں سے کئی ممالک اور شراکت دار شامل ہیں، جن میں سے متعدد نے بڑے پیمانے پر مالی امداد فراہم کی ہے اور آئندہ کے لیے بھی پائیدار تعاون کا وعدہ کیا ہے۔

اسی تناظر میں سعودی عرب نے گزشتہ روز تقریباً 90 ملین ڈالر کی امداد فلسطینی اتھارٹی کو اس اتحاد کے ذریعے فراہم کی۔

اتحاد کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ قلیل مدتی امداد کافی نہیں، اس لیے مالی تعاون کو پائیدار، قابلِ پیشگوئی اور مربوط بنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور اہم شراکت داروں کے ساتھ مل کر وسائل اکٹھے کیے جائیں گے، جاری اقتصادی و انتظامی اصلاحات میں مدد دی جائے گی اور مکمل شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جائے گا۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ فلسطینی محصولات کی تمام رقوم فوری طور پر جاری کرے اور ایسے اقدامات سے باز رہے جو فلسطینی اتھارٹی کو کمزور یا اس کے خاتمے کا باعث بنیں۔ ان کے مطابق ایسی پالیسی نہ صرف فلسطینی عوام اور اداروں کی بقا کے لیے خطرہ ہے بلکہ خطے اور دنیا کے امن و سلامتی کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔

مزید کہا گیا کہ یہ اتحاد کھلا ہے اور کسی بھی ملک یا بین الاقوامی ادارے کو اس میں شمولیت کی دعوت دی جاتی ہے، کیونکہ فلسطینی اتھارٹی کے مالی ڈھانچے کو مضبوط بنانا دراصل امن، استحکام اور خطے کے پائیدار مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔

سعودی وزیر خارجہ کی وضاحت

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے بتایا کہ اب تک 159 سے زائد ممالک فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کر چکے ہیں۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب سعودی عرب نے فرانس کے ساتھ مل کر مسئلہ فلسطین کے پرامن حل اور دو ریاستی فارمولے پر ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی۔

ان کا کہنا تھا کہ عرب اور اسلامی ممالک نے صدر ٹرمپ کو واضح طور پر بتایا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کے الحاق کی کوشش خطرناک ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی جنگ کا خاتمہ دو ریاستی حل کے نفاذ کی طرف پہلا قدم ہوگا۔ "ہم امریکا کے ساتھ مل کر جنگ بندی کے لیے کوشاں ہیں اور واضح ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں آسکتے۔"

مشترکہ پریس کانفرنس میں اردن، مصر، ناروے اور یورپی امن مندوب کے ساتھ شہزادہ فیصل نے زور دیا کہ دو ریاستی حل ہی خطے میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جو فلسطینی عوام کے ساتھ انصاف اور عملی حمایت کی راہ ہموار کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک منصفانہ اور جامع امن کے لیے کام کرتا رہے گا۔ ان کے مطابق دو ریاستی حل تاریخی موقع ہے جس سے 1967ء کی سرحدوں پر مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

غزہ کی جنگ کے بارے میں موقف

برطانوی چینل "سکائی نیوز" سے گفتگو میں سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کی جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہیں۔ ان کے بقول "یہ جنگ بہت طویل ہوگئی ہے اور اب ختم ہونی چاہیے"۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے اور حقائق سب کے سامنے ہیں۔

یورپی ممالک کا فلسطین کو تسلیم کرنا اور اقوام متحدہ کی سرگرمیاں

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے دوران مختلف عالمی رہنماؤں نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کئی یورپی ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلانات سامنے آئے۔

گزشتہ روز اقوام متحدہ میں امریکا، آٹھ عرب ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی ایک کثیر الفریقی سربراہی ملاقات ہوئی۔ اس اجلاس میں صدر ٹرمپ کے ساتھ قطر کے امیر شیخ تمیم، اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم، ترکی کے صدر رجب طیب ایردوغان، انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبيانتو، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف، مصر کے وزیر اعظم مصطفیٰ مدبولی، امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید اور سعودی وزیر خارجہ شریک ہوئے۔

اس اجلاس میں عرب اور اسلامی رہنماؤں نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں انسانی المیہ اور بڑے پیمانے پر جانی نقصان ناقابلِ برداشت ہے۔ انہوں نے جبری بے دخلی کی مخالفت کی اور بے گھر فلسطینیوں کی واپسی پر زور دیا۔

سمٹ نے زور دیا کہ جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور یرغمالیوں کی رہائی فوری اقدامات ہیں، جو ایک منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے پہلا قدم ہیں۔

اس کے تقریباً 24 گھنٹے بعد صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ غزہ میں جنگ ختم کرنے کا معاہدہ قریب ہے۔ "ہمیں اسرائیل کے ساتھ بات کرنی ہوگی اور مجھے یقین ہے کہ یہ ممکن ہے۔ بہت سے لوگ مر رہے ہیں لیکن ہم یرغمالیوں کی رہائی چاہتے ہیں۔"

اسرائیلی حملے جاری

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اس کے فضائیہ نے غزہ میں 170 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں مسلح افراد، فوجی عمارتیں، اسلحہ کے ذخائر اور بنیادی ڈھانچے شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں