غزہ میں دو سالہ جنگ کے بعد اسرائیل کے لیے امریکیوں کی حمایت میں تیزی سے کمی آئی: جائزہ

غزہ میں دو سالہ جنگ کے بعد اسرائیل کے لیے امریکیوں کی حمایت میں تیزی سے کمی آئی: جائزہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

نیویارک ٹائمز اور سینا یونیورسٹی کے ایک نئے سروے میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ دو سالوں میں امریکیوں کی اسرائیل کے لیے حمایت میں نمایاں کمی آئی ہے اور ووٹرز کی بڑھتی ہوئی تعداد غزہ جنگ کے بارے میں شدید منفی خیالات کا اظہار کر رہی ہے۔

یہ امریکی رائے عامہ میں ایک قابلِ ذکر تبدیلی کی عکاسی ہے جو اسرائیل کا اہم ترین اتحادی ہے اور جہاں اسرائیل کو کئی عشروں سے دو طرفہ حمایت حاصل رہی ہے۔

نیویارک ٹائمز نے 1998 میں پہلی بار اس دیرینہ تنازعے کے بارے میں رائے دہندگان سے سروے کرنا شروع کیا۔ اس کے بعد سے پہلی بار ووٹرز کے قدرے زیادہ تناسب نے اسرائیلیوں کے مقابلے میں فلسطینیوں کی حمایت کا اظہار کیا۔

سات اکتوبر کے حملوں کے فوراً بعد ایسے ہی ایک سروے میں 47 فیصد امریکی ووٹرز نے اسرائیل کی جبکہ 20 فیصد نے فلسطینیوں کی حمایت کی۔

تقریباً دو سال بعد منظرنامہ بدل گیا ہے: پولنگ میں شامل 1,313 رجسٹرڈ ووٹرز میں سے اب صرف 34 فیصد اسرائیل کی اور 35 فیصد فلسطینیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ باقی غیر فیصلہ کن تھے یا فریقین کی یکساں حمایت کرتے تھے۔

جائزے میں یہ بھی پتا چلا ہے کہ 60 فیصد رائے دہندگان کے خیال میں اسرائیل کو غزہ میں اپنی فوجی مہم ختم کر دینی چاہیے خواہ باقی اسرائیلی قیدیوں کی رہائی یا حماس کا قلع قمع نہ ہو۔ چالیس فیصد رائے دہندگان کا خیال ہے کہ اسرائیل دانستہ غزہ میں شہریوں کو قتل کر رہا ہے جو 2023 کی تعداد سے تقریباً دوگنا زیادہ ہے۔

امریکی رائے دہندگان کی اکثریت اب اسرائیل کو اضافی اقتصادی اور فوجی امداد دینے کی مخالفت کرتی ہے جو سات اکتوبر کے حملوں کے بعد سے رائے میں ایک اہم تبدیلی ہے۔ خاص طور پر نوجوان ووٹرز میں سیاسی وابستگی سے قطع نظر ایسی امداد کی حمایت کرنے کا امکان کم تھا۔ 30 سال سے کم عمر کے تقریباً 70 فیصد افراد کسی اضافی امداد کی مخالفت کرتے ہیں۔ ریاست اسرائیل نے 1948 میں اپنے قیام کے بعد سے امریکی غیر ملکی امداد میں سینکڑوں بلین ڈالر وصول کیے ہیں جو ایسی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ ہے۔

اسرائیل اور فلسطین کے بارے میں امریکیوں کی رائے میں نمایاں تبدیلی کی وجہ ڈیموکریٹک ووٹرز میں اسرائیل کی حمایت میں نمایاں کمی ہے۔ البتہ ریپبلکن حمایت میں بہت حد تک کوئی تبدیلی نہیں آئی، پول سے پتا چلا۔

امریکہ کے طول و عرض میں 54 فیصد ڈیموکریٹس نے فلسطینیوں سے زیادہ ہمدردی جبکہ صرف 13 فیصد نے اسرائیل سے زیادہ ہمدردی کا اظہار کیا۔ 2023 میں 34 فیصد نے اسرائیل اور 31 فیصد نے فلسطینیوں سے ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔

اسّی فیصد سے زیادہ ڈیموکریٹس کا خیال ہے کہ اسرائیل کو غزہ میں اپنی جنگ روک دینی چاہیے خواہ اس نے اپنے بیان کردہ اہداف حاصل نہ کیے ہوں۔ تقریباً 60 فیصد کا خیال ہے کہ اسرائیل دانستہ شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے جو 2023 میں ایسی رائے کے حامل افراد کی تعداد سے دوگنا ہے۔

ریپبلکن ووٹرز میں اسرائیل کے لیے حمایت 2023 میں 76 فیصد تھی جو کم ہو کر 64 فیصد رہ گئی۔ 70 فیصد ریپبلکن اسرائیل کے لیے اضافی امداد کی حمایت کرتے ہیں جبکہ 47 فیصد کا خیال ہے کہ اسرائیلی فوج شہری ہلاکتیں روکنے کے لیے کافی احتیاطی تدابیر اختیار کر رہی ہے۔ اکثریت کا خیال ہے کہ شہری ہلاکتوں سے قطع نظر فوجی مہم جاری رہنی چاہیے جب تک تمام اسرائیلی قیدیوں کو رہائی نہ مل جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں