امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اسرائیل نے غزہ سے "ابتدائی انخلا کی لکیر" پر اتفاق کر لیا ہے اور یہ معلومات حماس کو بھی منتقل کر دی گئی ہیں تاکہ اس کی منظوری کا انتظار کیا جا سکے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر جاری بیان کے ساتھ ایک نقشہ بھی شیئر کیا اور کہا کہ "مذاکرات کے بعد اسرائیل نے انخلا کی ابتدائی لکیر پر رضامندی ظاہر کی ہے، جسے ہم نے حماس کے سامنے پیش کیا ہے"۔ انہوں نے مزید کہاکہ "جب حماس اپنی منظوری کی تصدیق کرے گی تو جنگ بندی فوراً نافذ ہو جائے گی، قیدیوں کا تبادلہ شروع ہوگا اور ہم اگلے مرحلے کی تیاری کریں گے، جو اس تباہ کن صورتحال کے خاتمے کے قریب لے جائے گا"۔
اس سے قبل ہفتے کو ٹرمپ نے حماس کو متنبہ کیا تھا کہ وہ ان کی منصوبہ بندی میں تاخیر نہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ "میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کروں گا، جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ نہ ہی کسی ایسے نتیجے کو قبول کیا جائے گا جس سے غزہ دوبارہ خطرہ بن جائے۔ آئیے، اس معاملے کو جلد مکمل کرتے ہیں"۔
انہوں نے مزید کہا کہ "اسرائیل نے عارضی طور پر بمباری روکنے کا اعلان کیا ہے تاکہ قیدیوں کی رہائی اور امن معاہدے کے لیے موقع فراہم ہو۔" تاہم غزہ کے سول ڈیفنس ادارے نے تصدیق کی کہ اسرائیلی بمباری ہفتے کے روز بھی جاری رہی، جس میں درجنوں افراد جاں بحق ہوئے۔
اس دوران امریکی صدر کے مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کُشنر قاہرہ پہنچ گئے ہیں تاکہ قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر حتمی تفصیلات طے کی جا سکیں۔
ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے کے مطابق غزہ میں 72 گھنٹوں کے اندر جنگ بندی، قیدیوں کی رہائی، اسرائیلی فوج کا تدریجی انخلا، اور حماس کو غیرمسلح کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔
حماس کی جانب سے امریکی امن منصوبے کو مان لینے کے بعد جمعہ کو ٹرمپ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ غزہ پر بمباری فوری طور پر بند کرے، تاکہ قیدیوں کی رہائی ممکن بنائی جا سکے۔