اسرائیلی فورسز نے گریٹا کو بالوں سے گھسیٹ کر اسرائیلی پرچم چومنے کو کہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے سوئیڈش حکام کو بتایا کہ اسرائیلی حراست کے دوران ان کے ساتھ سخت ناروا سلوک کیا گیا۔

یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب وہ گلوبل صمود فلوٹیلا کے دیگر اراکین جو غزہ کے لیے امداد لے جا رہے تھے، گرفتار کر کے ہفتہ کے روز اپنے اپنے ممالک واپس بھیج دیے گئے۔

سویڈن کی وزارتِ خارجہ اور نوجوان کارکن گریٹا تھنبرگ کے قریبی افراد کے درمیان ہونے والی خط و کتابت سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے تھنبرگ کو زبردستی اسرائیلی پرچم اٹھانے اور اسے چومنے پر مجبور کیا، جب کہ انہیں یہ معلوم بھی نہیں تھا کہ وہ کس پرچم کو تھام رہی ہیں۔

کھٹملوں سے بھرے سیل میں قید

برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق سویڈن کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے گریٹا تھنبرگ کے قریبی افراد کو بھیجی گئی ایک ای میل میں بتایا گیا کہ ایک اہلکار جس نے جیل میں گریٹا سے ملاقات کی، نے تصدیق کی کہ اسرائیل نے انہیں کھٹملوں سے بھری ہوئی کوٹھڑی میں رکھا اور انہیں کھانے اور پانی کی ناکافی مقدار فراہم کی گئی۔

انہوں نے ناروا سلوک کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں طویل عرصے تک سخت فرش پر بیٹھنے پر مجبور کیا گیا۔

سوئیڈش اہلکار نے مزید بتایا کہ ایک اور قیدی نے سفارت خانے کو یہ اطلاع دی کہ اس نے گریٹا کو تصاویر بناتے وقت زبردستی جھنڈے اٹھانے پر مجبور کیا جاتا دیکھا۔

اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی حکام نے گریٹا تھنبرگ سے ایک دستاویز پر دستخط کرنے کا مطالبہ کیا۔

کم عمر گریٹا کو بالوں سے گھسیٹا

ترک سرگرم کارکن ارسین جیلیک جو گلوبل صمود فلوٹیلا میں شریک تھے، نے تصدیق کی کہ اسرائیلی فورسز نے سب کے سامنے گریٹا تھنبرگ کو اس کے بالوں سے گھسیٹا، مارا، اور اسے اسرائیلی پرچم کو چومنے پر مجبور کیا۔

انہوں نے مزید کہا: انہوں نے اس کے ساتھ ہر وہ کام کیا جو کسی کے تصور میں آ سکتا ہے، تاکہ دوسروں کے لیے ایک انتباہ ہو۔

اناضول ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق صحافی اور قافلے کے ایک اور شریک سفر لورینزو ڈی اگوسٹینو نے استنبول واپس آنے کے بعد کہا: انہوں نے گریٹا کو اسرائیلی پرچم میں لپیٹا اور اسے اس طرح پیش کیا جیسے کوئی شکار یا غنیمت ہو، یہ منظر ہر دیکھنے والے کے لیے غصہ اور حیرت کا باعث بنا۔

اسی طرح قافلے کی نمائندگی کرنے والی اطالوی قانونی ٹیم نے بتایا کہ گرفتار شدگان کو گھنٹوں تک کھانے یا پانی کے بغیر رکھا گیا، اور یہ سلسلہ پچھلی رات دیر گئے تک جاری رہا۔ اس دوران صرف گریٹا کے لیے ایک پیک آلو کے چپس پیش کیا گیا اور اسے کیمروں کے سامنے دکھایا گیا۔

ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اسرائیل کے ہاتھوں گرفتاری کے دوران (آرکائیو - اے ایف پی)
ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اسرائیل کے ہاتھوں گرفتاری کے دوران (آرکائیو - اے ایف پی)

اسرائیلی تردید

اس کے برعکس اسرائیلی سفارت خانے نے سویڈن میں ان تمام دعووں کو مسترد کرتے ہوئے اسے محض "جھوٹ" قرار دیا ہے۔

سفارت کانے کے مطابق تمام گرفتار شدگان کو پانی، کھانا اور بیت الخلاء فراہم کیے گئے، انہیں وکلاء تک رسائی سے محروم نہیں رکھا گیا، اور ان کے تمام قانونی حقوق، بشمول طبی دیکھ بھال، کا احترام کیا گیا۔

گریٹا تھنبرگ ان 437 فعال، پارلیمانی اراکین اور وکلاء میں شامل تھیں، جو گلوبل فلوٹ آف ریذیلیئنس میں شریک تھے۔ اس قافلے میں 40 سے زیادہ جہاز شامل تھے جو غزہ پر 16 سال سے نافذ بحری محاصرے کو توڑنے کے لیے انسانی امداد لے جا رہے تھے۔

لیکن اسرائیلی فورسز نے تمام ان جہازوں کو جمعرات اور جمعے کے روز روک لیا اور ان پر سوار ہر شخص کو گرفتار کر لیا۔

اس کے علاوہ زیادہ تر افراد کو کیتسیوٹ جیل میں قید کیا گیا (جسے انصار تھری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے)، جو کہ صحرا نقب میں ایک انتہائی محفوظ جیل ہے، یہاں پر بنیادی طور پر ان فلسطینی قیدیوں کو رکھا جاتا ہے جن پر اسرائیل مسلح سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگاتا ہے، یہ سب اس سے پہلے ہوا کہ جب گذشتہ روز انہیں واپس اپنے اپنے ممالک بھیج دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں