سعودی شہریت رکھنے والے… عمر یاغی کون ہیں جنھوں نے کیمیا کا "نوبیل" انعام جیتا؟

سائنس دان نے 2024 میں "نوابغ العرب" ایوارڈ حاصل کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اردنی نژاد فلسطینی سائنس دان عمر مؤنس یاغی نے نوبیل انعام برائے کیمیا 2025 اپنے نام کر لیا ہے۔ بدھ کو سویڈن کی شاہی اکیڈمی برائے علوم نے اعلان کیا کہ اس سال کا نوبیل انعام عمر یاغی، سوسومو کیتاگاوا اور رچرڈ روبسن کو مشترکہ طور پر دیا گیا ہے۔ یہ انعام ان تینوں کی جانب سے "نامیاتی دھاتی فریم ورک (Metal–Organic Frameworks)" کی تیاری میں شان دار کردار کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔

اس انعام کی تاریخ ایک صدی سے زیادہ پرانی ہے اور یہ شاہی سویڈش اکیڈمی آف سائنسز دیتی ہے۔ جیتنے والے سائنس دانوں میں 1 کروڑ 10 لاکھ سویڈش کرونر (تقریباً 12 لاکھ امریکی ڈالر) کی رقم برابر تقسیم کی جاتی ہے۔

عمر یاغی کون ہیں؟

عمر یاغی 1965 میں عمان (اردن) میں پیدا ہوئے۔ وہ اردنی نژاد فلسطینی ہیں اور فی الحال امریکا کی یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، برکلی میں جیمز اینڈ نیلٹجی ٹریٹر چیئر کے حامل پروفیسر ہیں۔ وہ لارنس برکلی نیشنل لیبارٹری سے وابستہ سائنس دان اور برکلی گلوبل سائنسز انسٹیٹیوٹ کے بانی ڈائریکٹر بھی ہیں۔

یاغی کو امریکا کی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز اور جرمنی کی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز (لیوپولڈینا) کا رکن منتخب کیا گیا۔ وہ 1998 سے 2008 کے درمیان دنیا کے معروف ترین سائنس دانوں اور انجینئروں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر رہے۔

انھوں نے 2021 میں سعودی عرب کی شہریت حاصل کی اور 2024 میں "نوابغ العرب" ایوارڈ جیتا۔

یاغی نے امریکا کی ہڈسن ویلی کمیونٹی کالج سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، پھر یونیورسٹی آف آلبانی میں پڑھائی جاری رکھی۔ سال 1990 میں انہوں نے یونیورسٹی آف الینوائے سے کیمیا میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد 1990 سے 1992 تک ہارورڈ یونیورسٹی میں ریسرچ فیلو رہے۔

بعد ازاں وہ یونیورسٹی آف ایریزونا (1992–1998)، یونیورسٹی آف مشی گن (1999–2006)، اور یونیورسٹی آف کیلی فورنیا لاس اینجلس (2007–2012) میں تدریسی عہدوں پر فائز رہے۔ سال 2012 میں وہ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، برکلی منتقل ہو گئے۔
عمر یاغی کو "ریٹیکیولر کیمسٹری" (Reticular Chemistry) کے بانی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جو مضبوط بندشوں کے ذریعے سالماتی بلاکس کو جوڑ کر کھلے فریم ورک تیار کرتا ہے، جنہیں درجنوں سائنسی و صنعتی ایپلی کیشنز میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ان میں سب سے نمایاں نامیاتی دھاتی فریم ورک (MOFs) ہیں جنہوں نے گیسوں کے ذخیرے، توانائی کے تحفظ اور ماحولیاتی ٹیکنالوجیز میں انقلاب برپا کیا۔

اپنے شان دار سائنسی سفر کے دوران یاغی نے کئی عالمی اعزازات حاصل کیے، جن میں 2015 کا شاہ فیصل ایوارڈ برائے کیمیا، مصطفی انعام برائے نینو سائنس و ٹیکنالوجی، البرٹ آئن اسٹائن ورلڈ ایوارڈ آف سائنس اور 2017 میں اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم کی جانب سے فرسٹ کلاس میڈل آف ایکسیلنس شامل ہیں۔

سال 2011 میں دنیا کے دوسرے بہترین کیمیادان قرار پانے والے پروفیسر یاغی کو 2015 میں بھی نوبیل انعام برائے کیمیا کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں