اسرائیل نے غزہ میں حملے روک دیے، حماس کا کل بڑے شہروں سے انخلا کا مطالبہ
غزہ میں جشن، جنگ بندی منظوری کے بعد ہی نافذ ہوگی: اسرائیلی حکومت
غزہ میں جنگ بندی کے آغاز پر شہریوں کی جشن کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے دفتر نے جمعرات کو واضح کیا ہے کہ معاہدہ ابھی باضابطہ طور پر نافذ نہیں ہوا، کیونکہ اس کے لیے کابینہ کی منظوری درکار ہے۔ تاہم دفتر نے اعلان کیا کہ غزہ میں تمام حملہ آور کارروائیاں روک دی گئی ہیں۔
وزیراعظم کے دفتر کے بیان کے مطابق "72 گھنٹوں کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے اور مرحلہ صرف کابینہ کی منظوری کے بعد شروع ہوگا، جو شام کے اجلاس میں متوقع ہے"۔
تغطية مستمرة من #قناة_العربية لتطورات #غزة بعد دخول المرحلة الأولى من اتفاق وقف النار حيز التنفيذ https://t.co/J94tlzj1SV
— العربية (@AlArabiya) October 9, 2025
فوجی سازوسامان ہٹانے کا آغاز
اسی دوران اسرائیلی میڈیا کے مطابق فوج نے غزہ میں بھاری فوجی سازوسامان کو ہٹانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ فوج کی جانب سے نئے دفاعی خطوط پر از سرِ نو تعیناتی اور "پیلی لان" کہلانے والے علاقوں تک انخلا کی تیاریوں کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔
العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار کے مطابق اسرائیلی ٹینکوں نے الرشید کوسٹل ہائی وے کو بند کر دیا ہے تاکہ بے گھر فلسطینیوں کو غزہ شہر واپس آنے سے روکا جا سکے۔
غزہ میں سول ڈیفنس حکام نے جنوبی علاقوں میں موجود شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ فی الحال شمال کی جانب نقل مکانی نہ کریں، کیونکہ اسرائیلی فورسز تاحال شمالی حصے میں واپسی کی اجازت نہیں دے رہیں۔
انخلا کے بعد ہی قیدیوں کا تبادلہ ہوگا
دوسری جانب حماس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کو جمعے کے روز تک غزہ کے تمام بڑی شہروں سے انخلا کرنا ہوگا۔ تحریک نے مزید واضح کیا کہ قیدیوں اور مغویوں کے تبادلے کا عمل اسی وقت شروع ہوگا جب مکمل جنگ بندی ہو جائے اور فوجی انخلا مکمل کر لیا جائے۔
حماس نے بتایا کہ معاہدے میں غزہ کی پٹی میں امدادی سامان کی ترسیل کے لیے پانچ گذرگاہیں کھولنے کی شق بھی شامل ہے۔
انہیں امریکہ اور دیگر ثالثوں کی جانب سے یہ ضمانت ملی ہے کہ اسرائیل دوبارہ جنگی کارروائیاں شروع نہیں کرے گا۔
إعلام إسرائيلي ينشر صورا لاستعدادات الجيش للانسحاب التدريجي من #غزة #قناة_العربية pic.twitter.com/lElBS39NjJ
— العربية (@AlArabiya) October 9, 2025
غزہ اور تل ابیب میں خوشی کی فضا
اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کے بعد غزہ میں فلسطینی عوام نے خوشیاں منائیں، جبکہ تل ابیب میں اسرائیلی قیدیوں کے اہلِ خانہ نے بھی جشن منایا۔ معاہدے کے تحت تمام اسرائیلی قیدیوں زندہ یا جاں بحق افراد کی واپسی کے بدلے سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ فریقین غزہ منصوبے کے پہلے مرحلے پر متفق ہو گئے ہیں، جس میں جنگ بندی اور قیدیوں کا تبادلہ شامل ہے۔ یہ معاہدہ دو سال سے جاری خونی جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ سمجھوتا مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے نتیجے میں طے پایا، جن میں اسرائیل اور حماس کے علاوہ قطر، مصر، ترکیہ اور امریکہ نے بھی کردار ادا کیا۔ یہ معاہدہ امریکہ کے 20 نکاتی امن منصوبے کا پہلا مرحلہ ہے، جسے ستمبر 2025 کے آخر میں پیش کیا گیا تھا۔