ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ریاستی حل اور غزہ معاہدے کے آئندہ مرحلے پر بات کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حماس کے ہتھیار ختم کر دیے جائیں گے اور مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم غزہ میں زیادہ تر قیدیوں کی جگہ جانتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ کچھ ہلاک شدگان کو ڈھونڈنا مشکل ہو۔ اپنے متوقع اسرائیل دورے کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ میں نے کنیسٹ میں بات کرنے کی منظوری دی ہے اور اگر مجھ سے کہا گیا تو میں ایسا کروں گا۔ امریکی صدر نے پیش گوئی کی کہ مشرق وسطیٰ میں امن معاہدے بہت تیزی سے پھیلیں گے۔