"غزہ معاہدے" سے فائدہ اٹھا کر یمن میں امن عمل دوبارہ شروع کیا جائے : گرونڈبرگ
انھوں نے ریاض کا دورہ مکمل کیا، جس کے دوران سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے سفیروں سے ملاقاتیں کیں.
یمن کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ نے زور دیا ہے کہ غزہ میں حالیہ جنگ بندی کے معاہدے سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یمن میں رکی ہوئی امن کوششوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔
اقوامِ متحدہ کے ایلچی کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق ہانس گرونڈ برگ نے بدھ کو ریاض کا دورہ مکمل کیا۔ وہاں انھوں نے یمن کے لیے سعودی عرب کے سفیر محمد آل جابر، متحدہ عرب امارات کے سفیر محمد الزعابی، سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے سفیروں اور دیگر بین الاقوامی سفارتی نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔
بیان میں کہا گیا کہ گرونڈ برگ نے اس موقع پر کہا کہ غزہ میں حال ہی میں طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ "علاقائی استحکام کو فروغ دینے اور یمن میں امن کی کوششوں کو نئی رفتار دینے کا ایک قیمتی موقع" فراہم کرتا ہے۔
انھوں نے زور دیا کہ اس موقع کو "ہم آہنگ حکمتِ عملی" کے ذریعے استعمال کیا جانا چاہیے، تاکہ یمن میں پائے دار طور پر کشیدگی میں کمی کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو اور ایک جامع سیاسی عمل کی راہ ہموار کی جا سکے۔
بیان کے مطابق گرونڈ برگ نے اپنی ملاقاتوں میں حوثی جماعت کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے ملازمین، سفارت کاروں اور امدادی اداروں کے کارکنوں کی "غیر قانونی حراست" کے معاملے پر بھی بات کی،۔ انھوں نے اسے "انسانی امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے اور امن کوششوں کو نقصان پہنچانے والا اقدام" قرار دیا۔
اقوامِ متحدہ کے ایلچی نے ایک بار پھر حوثیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام زیرِ حراست ملازمین کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کریں ... اور امدادی اداروں کے تمام کارکنوں کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنائیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کی جانب سے حوثیوں کی ان کارروائیوں کی سخت مذمت کی جا رہی ہے۔ مزید یہ کہ یمن کے دارالحکومت صنعاء، الحدیدہ اور صعدہ کی جیلوں میں قید درجنوں بین الاقوامی اور مقامی کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔