ایران میں سیاسی اور عدالتی اداروں کے درمیان جاری کشیدگی کے ایک نئے مرحلے میں ایرانی عدلیہ نے سابق رکنِ پارلیمنٹ اور "مردم سالاری" پارٹی کے سیکریٹری جنرل مصطفیٰ کوکبیان کو معطل قید کی سزا سنائی ہے۔
یہ فیصلہ اُس وقت سامنے آیا جب انہوں نے ایک فرانسیسی یہودی نژاد صحافی کیتھرین شَکدَم سے متعلق حساس الزامات عائد کیے تھے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ایرنا‘ کے مطابق عدالت نے کوکبیان کو 14 ماہ قید کی سزا سنائی، تاہم اسے چار برس کے لیے معطل کر دیا۔ فیصلے میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ آئندہ دو برس تک کسی بھی قسم کی میڈیا سرگرمی چاہے وہ ٹی وی یا ریڈیو انٹرویو ہو یا اخباری تحریرمیں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ عدالت نے اُس میڈیا ادارے کے مدیر کو بھی جرمانہ کیا جس نے کوکبیان کے متنازعہ بیانات شائع کیے تھے۔
کیتھرین شکدم اور 120 ایرانی شخصیات سے تعلقات
سرکاری ٹی وی چینل ’شبکہ خبر‘ پر ایک انٹرویو کے دوران کوکبیان نے کہا تھاکہ "کیتھرین شکدم مغرب کی جانب سے ایران کے حساس اداروں میں دراندازی کی ایک واضح مثال ہے۔ اس نے ملک کی 120 انتہائی اہم شخصیات سے قریبی تعلقات قائم کیے"۔
یہ بیان ایرانی اور غیر ملکی میڈیا میں فوری طور پر موضوعِ بحث بن گیا اور اس پر سیاسی و سکیورٹی حلقوں میں شدید ردعمل پیدا ہوا۔
روزنامہ ’ایران‘ کے مطابق عدلیہ نے ان بیانات کو “جھوٹی خبریں پھیلانے اور رائے عامہ کو گمراہ کرنے” کے مترادف قرار دیتے ہوئے باضابطہ تحقیقات شروع کیں۔
کوکبیان نے بعدازاں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "مجھے استغاثہ نے طلب کیا اور کہا کہ اس معاملے پر مزید بات نہ کروں۔ شکدم آٹھ سال تک ایران آتی جاتی رہی اور جب اُسے احساس ہوا کہ اس کا راز فاش ہو گیا ہے، تو وہ ملک چھوڑ کر فرار ہو گئی۔ میرا مقصد صرف یہ بتانا تھا کہ دراندازی کے خطرے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے"۔
"مزاحمتی محور کی حامی یا اسرائیلی ایجنٹ؟
ایرانی اخبار ’ہم میہن‘ کے مطابق کیتھرین شکدم کی کہانی محض ایک صحافتی تنازعہ نہیں۔ فرانسیسی نژاد شکدم جو برطانیہ میں مقیم ہیں نے ماضی میں قدامت پسند ایرانی میڈیا جیسے ’کیہان‘، ’تسنیم‘ اور ’مہر‘ میں مضامین لکھے۔ انہیں اُس وقت “محورِ مزاحمت کی حامی” صحافی کے طور پر پیش کیا گیا۔
تاہم 2021ء میں برطانوی اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ میں شائع اپنے مضمون میں شکدم نے اپنی یہودی شناخت ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایرانی میڈیا میں "دراندازی کے مشن" پر مامور تھیں تاکہ تہران کے فیصلہ سازی کے نظام اور نظریاتی بیانیے کا مطالعہ کیا جا سکے۔
یہ انکشافات مغربی اور عرب میڈیا میں بڑے پیمانے پر زیرِ بحث آئے اور ایرانی اداروں کے اندر ممکنہ دراندازی کے سوالات دوبارہ اٹھ کھڑے ہوئے۔
اسرائیلی حملوں کے بعد سکیورٹی خدشات میں اضافہ
روزنامہ ’شرق‘ نے لکھا کہ کوکبیان کے بیانات ایسے وقت سامنے آئے جب 13 جون 2025ء کو ہونے والے اسرائیلی حملوں کے بعد ایران میں اندرونی سکیورٹی کے خدشات بڑھ گئے تھے۔ بعض میڈیا اداروں نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل نے حملوں میں اُن معلومات کا استعمال کیا جو اسے ایران کے اندر سے ملی تھیں۔
اظہارِ رائے اور قومی سلامتی کے درمیان توازن
اصلاح پسند روزنامہ ’اعتماد‘ کے مطابق معطل سزا اور میڈیا سرگرمیوں پر پابندی اس بات کی علامت ہے کہ عدلیہ حساس معاملات میں غیر مصدقہ بیانات کے پھیلاؤ کو روکنا چاہتی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں زور دیا کہ "جھوٹ پر مبنی خبریں" پھیلانا عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے اور اس پر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
عدلیہ کے ترجمان کے بیان میں کہا گیا کہ میڈیا کے مدیران اپنی شائع کردہ مواد کے ذمہ دار ہیں اور آئندہ اس نوعیت کے واقعات پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
مصطفیٰ کوکبیان اور کیتھرین شکدم کا معاملہ ایران میں سیاست، میڈیا اور سکیورٹی کے درمیان باریک توازن کو نمایاں کرتا ہے۔ ایک جانب عوام حقائق جاننا چاہتے ہیں، دوسری جانب عدلیہ قومی سلامتی کے تحفظ کو مقدم رکھتی ہے۔ یہ کیس اب اس بات کی علامت بن چکا ہے کہ ایران میں اظہارِ رائے کی حدود اور سکیورٹی کے تقاضوں کے درمیان لکیر کہاں کھینچی جاتی ہے۔