امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حشیش کے کاروباری شخص مارک ساوایا کو عراق میں امریکی خصوصی ایلچی مقرر کر دیا ہے۔ گذشتہ سال انتخابات میں صدر کے ووٹوں میں اضافہ کرنے پر یہ گویا ان کے لیے ایک اعزاز ہے۔
مارک ساوایا ریاست مشی گن کے سب سے بڑے شہر ڈیٹرائٹ میں حشیش کاشت کرنے والی ایک اندرونِ خانہ کمپنی لیف اینڈ بڈ کے بانی ہیں۔
ٹرمپ نے اتوار کے روز ٹروتھ سوشل پر لکھا، "مارک کی عراق-امریکہ تعلقات کے بارے میں گہری تفہیم اور اس خطے میں ان کے روابط سے امریکی عوام کے مفادات کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔"
انہوں نے مزید لکھا، "مارک مشی گن میں میری انتخابی مہم میں ایک کلیدی کردار تھے جہاں انہوں نے اور دیگر افراد نے مسلم امریکیوں سے ریکارڈ ووٹ حاصل کرنے میں مدد کی۔"
ساوایا مسلم نہیں ہیں بلکہ کلدیون برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔
عراق میں حشیش غیر قانونی ہے اور منشیات کی سمگلنگ کے بڑے معاملات میں سزائے موت ہو جاتی ہے۔
ٹرمپ نے غزہ جنگ سمیت دیگر امور پر بڑی عرب-امریکی برادری کی حمایت سے جزوی طور پر مشی گن کی کلیدی ریاست میں کامیابی حاصل کی تھی۔
ٹرمپ نے مشی گن سے ایک اور عرب نژاد امریکی اور ڈیٹرائٹ کے قصبے ہیمٹرمک کے میئر عامر غالب کو کویت میں سفیر نامزد کیا لیکن اسرائیل سے متعلق بیانات پر جانچ پڑتال کے بعد ان کی نامزدگی کا معاملہ امریکی سینیٹ میں زیرِ التواء ہے۔
ٹرمپ نے خصوصی ایلچیوں پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے جو انہی کو جواب دہ ہیں اور روایتی سفیروں کے مقابلے میں انہیں سینیٹ کی تصدیق کی ضرورت نہیں ہے۔
ساوایا نے ایکس پر لکھا ہے کہ وہ "صدر ٹرمپ کی قیادت اور رہنمائی میں امریکہ-عراق شراکت کو مضبوط بنانے کے لئے پرعزم ہیں۔"