کوریا کے سرکاری دورے کے دوران ویتنامی اہلکار کی ملازمہ کے ساتھ ہراسانی

جنوبی کوریا نے واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں ویتنام کے ملٹری اتاشی کو طلب کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سیول کے ذرائع ابلاغ کے مطابق پیر کو جنوبی کوریا نے ویتنام کے ملٹری اتاشی کو طلب کیا ہے، یہ اقدام اس وقت کیا گیا جب ویتنام کے نائب وزیر دفاع پر گذشتہ ماہ ایک سرکاری دورے کے دوران نامناسب رویے کے شبہات سامنے آئے۔

منگل کو جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ وزارت نے واقعے کے سلسلے میں "مناسب کارروائی" کی ہے، مگر انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ویتنامی ملٹری اتاشی کو طلب کیا گیا یا نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تفصیلی حقائق کو متاثرہ فرد کی خواہش کے احترام میں زیادہ بڑے پیمانے پر پبلک نہیں کیا جا رہا ہے۔

پیر کو جنوبی کوریا کے صحافیوں کے ساتھ ایک نشست میں وزارت دفاع نے کہا کہ وہ ویتنام کے نائب وزیر دفاع کے رویے کی مذمت کرتی ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات طلب کیے ہیں کہ یہ دوبارہ نہ دہرایا جائے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق ویتنام کے نائب وزیر دفاع نے واقعے کے اگلے دن جنوبی کوریا چھوڑ دیا، اور اس کے بعد ایک ہفتے کے بعد ان کے ملک کے سفارتخانے میں ویتنامی ملٹری اتاشی کو طلب کیا گیا۔

انہی ذرائع کے مطابق ویتنامی ملٹری اتاشی نے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور وزارت کو یقین دلایا کہ ایسے امور کا اعادہ نہیں ہو گا۔

سیول میں ہنوئی کے سفارت خانے نے ان کا موقف جاننے کے لیے اے ایف پی کے رابطہ کوششوں کا جواب نہیں دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں