امریکہ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کے استحکام کے لیے سفارتی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس بدھ کو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کر رہے ہیں۔ ان کی ملاقاتوں کا سلسلہ آج اسرائیلی فوجی قیادت کے ساتھ امریکی اڈے میں شروع ہوا ہے، جبکہ وہ وزارتِ دفاع کا بھی دورہ کریں گے۔
وینس اور نیتن یاہو کے درمیان بات چیت میں غزہ کی تازہ صورت حال، امریکی انتظامیہ کا آئندہ مرحلے کا منصوبہ اور غزہ کی تعمیرِ نو و استحکام سے متعلق تعاون پر تبادلہ خیال ہو گا۔
اس کے علاوہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو جمعرات کو دو روزہ دورے پر اسرائیل پہنچیں گے۔ ایک امریکی عہدے دار کے مطابق ان کا دورہ غزہ میں جنگ بندی کے مؤثر نفاذ کی حمایت پر مرکوز ہو گا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو خبردار کیا ہے کہ وہ بڑی مسلح قوت کے قیام سے باز رہے، بصورتِ دیگر "اسے درست کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے"۔ انھوں نے کہا کہ اتحادی ممالک نے اس مجوزہ اقدام کا خیرمقدم کیا ہے، حالانکہ وہ خود "ایسا نہیں کرنا چاہتے"۔ ٹرمپ نے حماس کے بیانات کو "جنگ بندی کی خلاف
#نتنياهو: يجب عزل حماس تماما #قناة_العربية pic.twitter.com/V2touB1Hnl
— العربية (@AlArabiya) October 22, 2025
ورزی" قرار دیتے ہوئے انتباہ جاری کیا کہ "اگر حماس نے درست رویہ اختیار نہ کیا تو انجام سخت، تیز اور بھیانک ہو گا۔"
دوسری جانب نائب صدر وینس نے امید ظاہر کی ہے کہ غزہ میں جنگ بندی قائم رہ سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ نے حماس کے غیر مسلح کیے جانے کی آخری تاریخ مقرر نہیں کی تاکہ معاہدے پر عمل درآمد میں رکاوٹ نہ ہو۔
وینس نے واضح کیا کہ امریکی امدادی قوتیں صرف لوجسٹک مدد فراہم کریں گی اور غزہ میں کوئی امریکی فوجی تعینات نہیں ہو گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ یرغمال بنائے گئے افراد کی باقیات کی تلاش وقت لے گی کیونکہ ان کے مقامات نا معلوم ہیں۔
اسی دوران برطانیہ کے وزیرِ دفاع جان ہیلی نے تصدیق کی کہ برطانوی فوج کی ایک چھوٹی ٹیم بھی واشنگٹن کی درخواست پر اسرائیل پہنچی ہے تاکہ غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی کر سکے۔ یہ ٹیم امریکہ کی قیادت میں قائم عسکری و شہری تعاون کے مرکز میں شامل ہو گی، جس میں قطر، مصر، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے فوجی بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔
البتہ اقوامِ متحدہ میں "العربیہ" اور "الحدث" کے ذرائع کے مطابق غزہ میں بین الاقوامی امن فورس کے قیام پر اتفاقِ رائے ابھی "دور" ہے، کیونکہ اس کے لیے اقوامِ
مسؤول إسرائيلي لشبكة سي إن إن : ضغوط تجريها تل أبيب على إدارة ترمب لنزع سلاح حماس قبل الانتقال إلى مرحلة إعادة الإعمار#قناة_العربية#أخبار_الصباح pic.twitter.com/4Jv6Pu6ix3
— العربية (@AlArabiya) October 22, 2025
متحدہ کی اجازت درکار ہوگی۔ بتایا گیا ہے کہ فرانس اور برطانیہ اس مقصد کے لیے قرارداد کا مسودہ تیار کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ترکی غزہ کی تعمیرِ نو میں حصہ لینے کے لیے اپنی فورس بھیجنے کا خواہاں ہے، مگر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اسے "ریڈ لائن" قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ تاہم اس معاملے پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان گفت و شنید جاری ہے۔
آخر میں ایک اسرائیلی اہل کار نے سی این این کو بتایا کہ اسرائیل غزہ کی تعمیرِ نو سے پہلے حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کے لیے واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ امریکی ذرائع کے مطابق موجودہ جنگ بندی "قلیل مدت میں نازک" مرحلے پر ہے، اس لیے نائب صدر وینس اور صدارتی نمائندوں جارڈ کُشنر اور اسٹیو وٹکوف کے دورے انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔