نیم فوجی ڈرونز نے خرطوم ایئرپورٹ کو دوسرے دن بھی نشانہ بنایا: فوجی ذریعہ
خرطوم کے بین الاقوامی ایئرپورٹ کا ایک عمومی منظر۔ (رائٹرز)
سوڈانی فوجی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ نیم فوجی ڈرونز نے بدھ کو مسلسل دوسرے دن خرطوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا۔
نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بات کرنے والے ذریعے نے کہا کہ بدھ کے روز "ڈرونز نے خرطوم ایئرپورٹ کو دوبارہ فجر کے وقت نشانہ بنایا"۔
انہوں نے مزید کہا کہ فوج کے فضائی دفاع نے یہ ڈرونز روک لیے جو ان کے مطابق ایک "دہشت گرد ملیشیا" نے بھیجے تھے - ان کا اشارہ ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کی طرف تھا جو اپریل 2023 سے فوج سے لڑ رہے ہیں۔
دو سال سے زیادہ کی جنگ میں ایئرپورٹ کو پہلی بار اندرونِ ملک پروازوں کے لیے بدھ کو دوبارہ کھلنا تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا تازہ ترین حملوں کے بعد یہ کارروائی منصوبے کے مطابق ہو گی۔
منگل کو عینی شاہدین نے صبح سویرے ایئرپورٹ کے قریب ایک علاقے میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔ اس دن بعد میں آرمی چیف عبدالفتاح البرہان کے دورے کے دوران ایئرپورٹ بظاہر درست حالت میں تھا۔
آر ایس ایف نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن اس پر حالیہ مہینوں میں فوجی اور سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرونز کے استعمال کا بارہا الزام عائد کیا گیا ہے۔
وسیع تر تنازعے میں دسیوں ہزار افراد ہلاک اور تقریباً 12 ملین افراد بے گھر ہو گئے ہیں اور نقلِ مکانی اور بھوک کا دنیا کا سب سے بڑا بحران پیدا ہوا ہے۔