پولینڈ کس وجہ سے 123 سال تک نقشے سے غائب رہا؟
ایک صدی سے زائد عرصے تک پولینڈ یورپ کے نقشے سے اس وجہ سے غائب رہا کیونکہ روس، آسٹریا اور پروشیا نے 1795 میں اس کی زمینیں آپس میں بانٹ لیں تھیں۔ یہ دوبارہ پہلی عالمی جنگ کے بعد تقریباً 123 سال بعد اس وقت ظاہر ہوا، جب جنرل جوزیف پیوسودسکی (Józef Piłsudski) نے 11 نومبر 1918 کو دوسری پولش جمہوریہ کے قیام کا اعلان کیا، یہ اعلان ان ملکوں کے زوال کے بعد ممکن ہوا جو پہلے پولینڈ کی اراضی بانٹ چکے تھے۔
ڈیڑھ سو سال غائب
پولینڈ نے اپنی جگہ بین الاقوامی سطح پر دوبارہ حاصل کی، لیکن یہ راستہ آسان نہیں تھا کیونکہ آزادی کے بعد اسے 1919 سے 1921 کے درمیان اپنے ہمسایوں کے ساتھ سرحدی تنازعات کا سامنا کرنا پڑا، آخرکار اس کی سرحدیں سوویت یونین کے ساتھ "ریگا" معاہدے کے ذریعے طے ہوئیں۔
اس کے باوجود پولش خودمختاری زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی، کیونکہ دوسری عالمی جنگ کے آغاز میں 1939 میں ملک دوبارہ نازی جرمنی اور سوویت یونین کے درمیان تقسیم ہو گیا، جو اٹھارویں صدی کے آخر کی المیہ صورتحال کی یاد دلاتا ہے۔
شاہی اصلاحات
کہانی کا آغاز اٹھارویں صدی میں ہوا، جب پولینڈ کے بادشاہ سٹانیسلاو دوم اگست (Stanisław II August) نے اپنے ملک کو بچانے کے لیے سیاسی اور فوجی اصلاحات کی مرحلہ وار کوششیں شروع کیں، یہ اقدامات اس کے بعد کیے گئے جب 1772 میں پہلی تقسیم میں ملک کے کچھ علاقے کھو گئے تھے۔
بادشاہ نے ایک نیا آئین منظور کیا، جس نے اس کی اختیارات اور اشرافیہ کے فوائد کو محدود کیااور ریاست کی جدید کاری کی امید کے ساتھ اختیارات کی تقسیم کو قائم کیا۔
لیکن یہ اصلاحات اشرافیہ کی جماعت کو پسند نہ آئیں اور علاقائی طاقتوں خاص طور پر روس کو بھی تشویش ہوئی، کیونکہ انہوں نے اسے فرانسیسی انقلاب کے خیالات کی طرح ایک خطرہ سمجھا۔
روس کی جانب سے حملہ اور اتحادیوں کی غداری
1792 میں روسی افواج نے انقلاب روکنے کے بہانے پولینڈ کی زمینوں پر حملہ کر دیا،جبکہ اس کے پروسیائی اتحادی اس کے ساتھ مخلص نہ رہے اور عدم مداخلت کے وعدے پورے نہ کیے۔
اشرافیہ نے اپنے بادشاہ کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا،جس کے نتیجے میں پولش فوج تیزی سے ٹوٹ گئی اور نئے علاقوں پر قبضہ کر لیا گیا۔
روس نے تقریباً 250000 مربع کلومیٹر زمین حاصل کی،جبکہ پروشیا کو 58000 مربع کلومیٹر زمین ملی۔اس طرح پولینڈ نے 1772 سے پہلے اپنی اصل زمینوں کا تقریباً دو تہائی حصہ کھو دیا۔
مایوسی اور بغاوت کے باعث باقی ماندہ زمین کا نقصان
فرانسیسی انقلاب کے اثر میں آ کر پولینڈیوں نے 1794 میں اپنی آزادی واپس لینے کی کوشش کی اور روسی قبضے کے خلاف بغاوت کی۔تاہم تین بڑی طاقتیں (روس، پروشیا اور آسٹریا) دوبارہ متحد ہو گئیں تاکہ اس بغاوت کو دبائیں اور انقلاب کو مکمل طور پر کچل دیں۔
24 اکتوبر 1795 کو ان طاقتوں نے رسمی طور پر پولش-لتھوینیا کی مشترکہ سلطنت کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں پولینڈ یورپی نقشے سے مکمل طور پر غائب ہو گیا۔
آخری تقسیم کے معاہدے پر 26 جنوری 1797 کو دستخط ہوئے،آسٹریا نے ویسٹ گالیشیا اور ساؤتھ مازوویا کے علاقے حاصل کیے، جن میں تقریباً 1اعشاریہ2 ملین افراد شامل تھے۔
پروشیا نے بودلاشیا اور وارسا پر قبضہ کیا، جس میں تقریباً ایک ملین افراد شامل تھے۔روس نے پولینڈ کی باقی ماندہ زمینوں پر قبضہ کر لیا اور اپنے رعایا میں 1اعشاریہ2 ملین مزید افراد شامل کیے۔
بادشاہ کا خاتمہ اور قوم کی جلاوطنی
ان واقعات کے بعد بادشاہ سٹانیسلاو دوم کو تخت سے دستبردار ہونا پڑا اور انہیں سینٹ پیٹرزبرگ جلاوطن کیا گیا، جہاں وہ اپنی موت تک نگرانی میں رہے۔
پولینڈ کی ریاست کے خاتمے کے بعد تین بڑی طاقتوں نے ایک مہم چلائی تاکہ اہل علم اور سیاستدانوں کو ملک سے نکالا جائے، کیونکہ انہیں قومی رجحانات کے دوبارہ ابھرنے کا خوف تھا۔ یوں پولینڈ کی جدید تاریخ کا طویل ترین دور شروع ہوا، جس میں ملک کا خاتمہ ہوا، قبضے میں رہا اور آزادی کی تمنّا میں گزرا۔