ایرانی حمایت یافتہ یمنی حوثیوں نے ہفتے کے روز اقوام متحدہ کے دو اہلکاروں کو حراست میں لے لیا ہے۔ اقوام متحدہ کے حکام نے ان دونوں اہلکاروں کو اپنے ایڈیشنل کارکن بتایا ہے۔
اقوام متحدہ کے حکام کے مطابق حوثی کی سیکیورٹی فورسز نے دو خواتین ورکرز کو حراست میں لیا ہے۔ یہ دونوں کارکن عالمی خوراک پروگرام سے وابستہ تھیں۔ ان دونوں کو ان کے صنعا میں واقع گھروں سے سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کیا ہے۔
تاہم یو این حکام نے ان زیر حراست لی گئی خواتین کارکنوں کے بارے میں مزید کوئی تفصیل شیئر نہیں کی ہے۔ البتہ یہ بتایا گیا یے کہ ان میں سے ایک خاتون کی صحت زیادہ خراب ہے۔ اس کی ایک بہن بھی عالمی خوراک پروگرام کے ساتھ وابستہ ہے۔ جسے اسی ماہ کے شروع میں مختصر حراست میں رکھ کر حوثیوں نے چھوڑ دیا تھا۔ جبکہ ان کے ایک بھائی کو بھی گرفتار کیا گیا تھا مگر اس کے گردوں کے عارضے کی وجہ سے اسے بھی حوثی سیکیورٹی فورسز نے رہا کر دیا تھا۔
خیال رہے ہفتے کے روز اقوام متحدہ کی دو کارکنوں کی گرفتاری حوثیوں کی تازہ کارروائی ہے۔ اس سے قبل جمعرات اور جمعہ کے روز بھی متعدد یو این کارکنوں کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارے گئے تھے۔ ان چھاپوں میں بھی دو کارکنوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔
حوثیوں نے اسی ماہ کے شروع میں یو این او کے مراکز پر چھاپے مار کر کمیونیکیشن سسٹم قبضے میں لیا اور اب تک دو درجن کے قریب کارکنوں کو حراست میں کیا ہے۔ تاہم بدھ کے روز ان میں سے 12 کارکنوں کو رہا کر کے اپنے ملکوں میں واپس جانے دیا تھا۔
پچھلے کافی عرصے سے یو این او کے کارکنوں کو یمنی حوثی گرفتار کر رہے ہیں۔ اس وقت مجموعی طور پر کم از کم 55 یو این کارکن حوثیوں کی قید میں ہیں۔ ان گرفتاریوں اور چھاپوں کا مقصد اقوام متحدہ کے ذیلی ادروں کو یمن میں سرگرمیوں سے روکنا بتایا جاتا ہے۔ اس لیے یمنی حوثی ان یو این کارکنوں کو بار بار گرفتار کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔