یمن : یونیسکو نے صنعاء اور حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں اپنے منصوبے روک دیے
یونیسکو میں یمن کے مندوب کا کہنا ہے کہ حوثی عناصر صنعاء کے قدیم ورثے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے ایک سفارتی عہدے دار نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ اقوامِ متحدہ کی تعلیمی، سائنسی و ثقافتی تنظیم (یونیسکو) کے وہ ترقیاتی منصوبے روک دیے گئے ہیں جن پر دارالحکومت صنعاء کے قدیم حصے میں ... جو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہے اور شمال و مغرب کے اُن تمام علاقوں میں عمل جاری تھا جو حوثی گروہ کے زیرِ قبضہ ہیں۔
یونیسکو میں یمن کے مندوب محمد جمیح نے وضاحت کی کہ حوثیوں کے ’’مسلسل تخریب کارانہ طرزِ عمل‘‘ کے باعث تنظیم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کے تمام منصوبے اب اُن علاقوں میں منتقل کیے جائیں جہاں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کا کنٹرول ہے، یعنی ملک کے جنوبی اور مشرقی حصوں میں۔
جمیح نے اپنے بیان میں کہا ’’حوثی عمارتوں پر نعروں اور پوسٹروں کی تنصیب اور غیر موزوں تعمیراتی مواد کے استعمال سے ، قدیم صنعاء کے تاریخی ورثے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے رہے ہیں۔ ان کے مذکورہ غیر مہذب اقدامات کا اختتام اس وقت ہوا جب انھوں نے یونیسکو کے ان ملازمین کو گرفتار کر لیا جو صنعاء کے ورثے کے تحفظ پر کام کر رہے تھے‘‘۔
انھوں نے مزید کہا کہ صنعاء ’’اہم منصوبوں سے محروم ہو چکا ہے اور اب یونیسکو اور عطیہ دہندگان دونوں ہی حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں ورثے کے تحفظ کے کسی منصوبے کے لیے فنڈنگ دینے سے انکار کر رہے ہیں۔‘‘
قدیم صنعاء عرب دنیا کے قدیم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے اور مؤرخین کے مطابق اس کی عمر ہزاروں سال پر محیط ہے۔ اس کا مذہبی اور ثقافتی ورثہ 103 مساجد، 14 حماموں اور 6 ہزار سے زائد تاریخی گھروں پر مشتمل ہے۔ یہ تمام عمارتیں گیارہویں صدی سے پہلے تعمیر ہوئیں اور اسے 1986 میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا۔
جمیح نے خبردار کیا کہ ’’حوثیوں کی جانب سے صنعاء کے ورثے سے چھیڑ چھاڑ کا سلسلہ اب ملک کے مشرقی حصے میں واقع تاریخی شہر شبام تک پھیلنے لگا ہے۔‘‘
انھوں نے بیان میں کہا ’’ایسا لگتا ہے کہ تاریخی شہروں کے ظاہری خد و خال سے چھیڑ چھاڑ کی یہ روش صنعاء سے شبام حضرموت تک وبا کی طرح پھیل گئی ہے، مختلف نعروں اور جھنڈوں کے ساتھ‘‘۔ جمیح کا اشارہ جنوبی عبوری کونسل کے نعروں کی طرف تھا جو شمال سے علیحدگی کی کوشش کر رہی ہے۔
جمیح نے خبردار کیا کہ اگر ایسے اقدامات نہ روکے گئے تو شبام بھی یونیسکو کے منصوبوں سے محروم ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’شبام عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ ہے اور 1972 کے عالمی ورثہ تحفظ معاہدے کے تحت بین الاقوامی تحفظ حاصل ہے۔‘‘
انھوں نے زور دیا کہ ’’شہر کے تاریخی ورثے اور معمارانہ طرز کو محفوظ رکھنا اور ایسی تمام خلاف ورزیاں روکنا ضروری ہے جو اس کے عالمی درجے کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔‘‘
جمیح نے مزید کہا: ’’ہم مسلسل حوثیوں کو صنعاء میں تخریب کاری کے نتائج سے خبردار کرتے رہے، لیکن بے سود ... آخرکار یونیسکو نے اپنے تمام منصوبے دارالحکومت صنعاء سے واپس لے لیے۔‘‘