بڑھتی قیمتوں کے باعث ریاض میں سونے کی مانگ میں کمی
گولڈ بلین نے زیورات سے بہتر کارکردگی دکھائی، ریاض میں سالانہ فروخت لگ بھگ 10ارب ریال تک پہنچ گئی
عالمی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور گرتی ہوئی قوت خرید کے درمیان ریاض میں سونے کی منڈیوں میں روایتی زیورات سے لے کر سرمایہ کاری کے گولڈ بلین تک مختلف سطحوں کی مانگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث خریداری میں کمی کے باوجود سونے کا بلین صارفین اور سرمایہ کاروں دونوں کی طرف سے نمایاں دلچسپی حاصل کر رہا ہے۔ یہ صورتحال خریداری کے رویے میں تبدیلی اور سرمایہ کاری کے مزید لچکدار آلات کی طرف پیش قدمی کی عکاسی کر رہی ہے۔
مارکیٹ کے اعداد و شمار اور تاجروں کے اندازے بتاتے ہیں کہ سعودی دارالحکومت ریاض مملکت میں سونے کی فروخت کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ مخصوص موسموں اور مواقع کے دوران ہلکے زیورات اور انویسٹمنٹ کے گولڈ بلین کی مسلسل مانگ برقرار رہتی ہے۔ ریاض کی سونے کی منڈیوں میں تاجروں نے سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے صارفین کی خریداری میں نمایاں کمی کی تصدیق کی ہے۔ ریاض میں اتوار کو سونے کے کئی قیراط میں واضح استحکام دیکھا گیا ہے ۔ 24 قیراط سونے کے ایک گرام کی قیمت 482.69 ریال ( 128.72 ڈالر ) پر مستحکم رہی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ریاض کی سب سے مشہور گولڈ مارکیٹوں میں سے ایک ’’ طیبہ مارکیٹ ‘‘ کے فیلڈ وزٹ کے دوران مشاہدہ کیا کہ زیورات کے مقابلے میں گولڈ بلین کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بلین کی فروخت میں مہارت رکھنے والی دکانیں اب وسیع ہیں اور صارفین کی قابل ذکر ٹریفک سے لطف اندوز ہو رہی ہیں۔ یہ رجحان صارفین کے رویے میں نمایاں تبدیلی کی عکاسی کر رہا ہے۔
سونے کے ایک سرمایہ کار علی الشقحاء نے تخمینہ لگایا کہ سعودی دارالحکومت ریاض میں سالانہ فروخت کا حجم تقریباً 8 سے 10 بلین ریال (2,666,453.35 امریکی ڈالر) ہے۔ مارکیٹ کے سائز اور دکانوں کی تعداد کی وجہ سے مملکت میں سونے کی کل فروخت کا سب سے بڑا حصہ ریاض کا ہے۔ وہ تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کو کچھ تاجروں کی سونے کی خریداری میں حالیہ نسبتاً ہچکچاہٹ کی وجہ قرار دیتے دیتے ہیں۔ اسی کی وجہ سے کچھ تاجر قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے بچنے کے لیے خریداری ملتوی کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مارکیٹ کی سرگرمی خاص طور پر چوٹی کے موسموں اور تعطیلات کے دوران مضبوط رہتی ہے ۔
انہوں نے اس سال سعودی عرب کی سونے کی درآمدات کے وسیع تر تخمینے فراہم کیے۔ ان کا تخمینہ تقریباً 55 سے 60 ٹن ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ گزشتہ سال کی درآمدات تقریباً 58 ٹن تک پہنچ گئی تھیں جس میں سونے کی عالمی قیمتوں اور طلب اور رسد میں اتار چڑھاؤ سے متعلق معمولی تغیرات شامل تھے۔ علی الشقحاء نے کہا کہ سعودی عرب جن اہم ممالک سے خام اور صاف شدہ سونا درآمد کرتا ہے وہ چار ممالک سوئٹزرلینڈ، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور اٹلی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ مقداریں مقامی طور پر ملکی فیکٹریوں میں بھی ریفائن کی جاتی ہیں۔ انہوں نے موجودہ گولڈ مارکیٹ کو مستحکم قرار دیا جس میں گزشتہ سال کے مقابلے فروخت میں معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ خاص طور پر بڑے اور سرمایہ کاری کے ٹکڑوں کے لیے فروخت میں معمولی کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہلکے زیورات اور جدید ڈیزائن کی مانگ برقرار ہے۔
سونے کی خریداری میں کچھ تاجروں کی نسبتا ہچکچاہٹ کے حالیہ مشاہدے کے بارے میں علی الشقحاء نے کہا کہ اس کی وجہ عالمی قیمتوں میں اضافہ ہے جس کی وجہ سے کچھ تاجروں نے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے بچنے کے لیے خریداری ملتوی کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی گولڈ مارکیٹ مضبوط ترین علاقائی منڈیوں میں سے ایک ہے جو صارفین کے اعتماد اور استحکام کے اعلیٰ درجے سے لطف اندوز ہوتی ہے۔
ریاض چیمبر آف کامرس میں زیورات کی کمیٹی کے چیئرمین عبدالرحمن الشقحاء نے گزشتہ تین سالوں کے دوران فروخت میں نمایاں کمی کی تصدیق کی۔ انہوں نے خاص طور پر اس سال سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور قوت خرید کی کمزوری کی وجہ سے فروخت میں کمی کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ گولڈ بلین اب بھی کچھ فروخت برقرار رکھے ہوئے ہیں لیکن مذکورہ عوامل کے نتیجے میں پہلے سے کم سطح پر ہے۔
ایک سونا بیچنے والے عبداللہ الیافعی کا خیال ہے کہ مانگ تیزی سے گولڈ بلین کی طرف بڑھ رہی ہے۔ الیافعی نے کہا کہ 21 قیراط سونا اس وقت سب سے زیادہ مقبول ہے جو 60 فیصد خریداریوں کا حصہ ہے۔ 18 قیراط سونا 40 فیصد ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قیمتوں میں اضافے کے باوجود سونے کی دکانوں کو نمایاں مانگ کا سامنا ہے۔ تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ زیادہ تر گاہک بھی تیزی سے چاندی کی خریداری کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی یومیہ فروخت ماہانہ 10 لاکھ ریال تک پہنچ جاتی ہے۔
اس سال فیڈرل ریزرو (امریکی مرکزی بینک) کی جانب سے شرح سود میں مزید کٹوتی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے درمیان جمعہ کے سیشن کے دوران سونے کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔ اس کے باوجود قیمتی دھات کی قیمت میں اکتوبر میں مسلسل تیسرے مہینے اضافہ ہوا ہے۔ سپاٹ ٹریڈنگ میں سونا 0.54 فیصد گر کر 4,002.90 ڈالر فی اونس پر آگیا ۔ قبل ازیں سیشن کے آغاز میں 3,988.37 ڈالر تک بھی گر گیا تھا۔ دسمبر کی ڈیلیوری کے لیے امریکی سونے کا مستقبل 0.48 فیصد گر کر 3,996.5 ڈالر فی اونس ہوگیا لیکن اکتوبر کے دوران قیمتوں میں 3.2 فیصد اضافہ ہوا۔