غزہ میں بین الاقوامی افواج یقینی بنائیں کہ فریقین ایک دوسرے کے لیے خطرہ نہ بنیں

دو ریاستی حل کے علاوہ کوئی حل نہیں: قطری وزیرِ اعظم کا سی این این کو انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آلِ ثانی نے سی این این کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ جنگ بندی کے تحت غزہ میں تعینات بین الاقوامی افواج اس بات کو یقینی بنائیں کہ فلسطینی اور اسرائیلی ایک دوسرے کے لیے خطرہ نہ بنیں۔

سی این این کے فرید زکریا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا: "جب ہم بین الاقوامی موجودگی کے بارے میں بات کر رہے ہیں تو انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس کے پاس ایک واضح مینڈیٹ ہونا چاہیے "جس کی تشکیل کے لیے ہم امریکہ کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ اور بنیادی طور پر ان افواج کا کردار فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو محفوظ بنانا ہونا چاہیے جو دونوں ایک دوسرے کے لیے خطرہ نہ ہوں۔"
شیخ محمد نے غزہ جنگ بندی کی حالیہ خلاف ورزیوں کے بارے میں بھی بات کی جو ان کے مطابق"ہر روز ہو رہی ہیں"۔ انہوں 25 جنوری کی جنگ بندی کو یاد کیا جس کی بھی خلاف ورزی کا الزام اسرائیل پر لگایا گیا تھا۔

انہوں نے کہا، "اس جنگ بندی کے دوران بہت سے فلسطینی ہلاک کیے جا رہے تھے۔ خلاف ورزیاں ہر روز ہو رہی ہیں۔ اور ہمارے پاس آپریشن روم ہے جو ہم نے مصر اور امریکہ کے ساتھ مل کر بنایا۔ ہم وہاں سب کچھ رجسٹر کرتے ہیں۔"

انہوں نے حالیہ اسرائیلی حملوں کے حوالے سے مزید کہا، "حملہ واقعی غیر متناسب اور معاہدے کے لیے خطرے کا باعث تھا۔ لیکن ہم فریقین کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ یہ یقینی ہو کہ جنگ بندی برقرار رہے۔"

شیخ محمد نے فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کے لیے قطر کی حمایت کا اعادہ کیا جو ان کے مطابق غزہ اور مغربی کنارے کی صدارت کرنے والی "واحد ایجنسی" ہے۔

"اس وقت الفتح اور پی اے سمیت تمام فلسطینی دھڑوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جائے کہ یہ ٹیکنوکریٹک کمیٹی غیر سیاسی ہو۔ وہ عبوری دور میں غزہ کی نگہداشت کرے گی اور یہ کسی نہ کسی طرح فلسطینی اتھارٹی سے منسلک ہو گی۔ ایک دفعہ اصلاحات نافذ ہو جائیں تو یہ فلسطینی اتھارٹی اور مغربی کنارے کا ایک ساتھ انتظام سنبھال لے۔" انہوں نے کہا۔

"ہم ان دونوں اکائیوں کو الگ نہیں کر سکتے، وہ ایک ہی ہیں، وہ مستقبل کی فلسطینی ریاست ہیں۔ دیکھیں فرید، ہم جو کچھ بھی کریں اور کہیں، بعض سیاستدانوں کی ممکن ہے اسرائیل میں یہ خواہش مندانہ سوچ ہے کہ دو ریاستی حل کے علاوہ کوئی اور حل موجود ہے۔ (جبکہ درحقیقت) دو ریاستی حل کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے۔ ہم یہ طریقہ کیسے نکال سکتے ہیں کہ دو لوگ ایک ساتھ رہ کر محفوظ محسوس کر سکیں؟"


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں