جرمنی میں مسیحائی کے مقدس پیشے وابستہ ایک نرس نے ہسپتال میں مریضوں کی دیکھ بھال آسان کرنے اور اپنی ذمہ داری کا بوجھ کم کرنے کے لیے دس مریضں کو جان لینے کا باعث بننے والے انجیکشن لگا کر قتل کر دیا اور 27 کو اسی طرہقے سے قتل کرنے کی کوشش کی۔
بدھ کے روز اس غیر معمولی جرمنی نرس کو عدالت نے اس کے جرائم کی سنگینی کے پیش نظر اسے عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ یاد رہے جرمنی میں قاتل کو قتل کے جرم میں سزائے موت نہیں دی جاتی کہ یہ ایک ظالمانہ سزا سمجھی جاتی ہے۔ اس لیے دس افراد کی جان لینے والی نرس کو بھی عمر قید دی گئی ہے۔
نرس نے استغاثہ کے مطابق زیادہ تر بوڑھے مریضوں کو ٹیکے لگا کر قتل کیا کہ وہ اسے زیادہ بوجھ لگتے تھے ۔
جرمنی کے علاقے آچن میں عدالت کے ایک ترجمان نے کہا کہ یہ جرم بہت سنگین نوعیت کا ہے۔ اس لیے اس نرس کے پندرہ سال بعد رہا ہونے کا امکان کم ہے۔
نرس نے قتل کی ساری وارداتیں آچن کے ہی ایک ہسپتال میں کی تھیں ان جرائم کا دورانیہ صرف چھ ماہ کا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق نرس نے دسمبر 2023 سے مئی 2024 کے دوران یہ مریض کام نمٹانے کے لیے قتل کر دیے۔
جرمنی یورپ کے چند بڑے اور زیادہ مہذب ملکوں میں سے ایک ہے۔ یہ یورپی یونین کا بھی رکن ہے۔ عدالتی ذرائع کے مطابق نرس کو عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق حاصل ہو گا۔
دوسری جانب پراسیکیوشن نے ان سنگین وارداتوں کے بعد اپنی تحقیقات کا دائرہ بڑھا دیا ہے تاکہ ان ہسپتالوں کا بھی جائزہ لیں جہاں یہ نرس پہلے کام کرتی رہی ہے۔
کیونکہ خدشہ ہے کہ اس سے جرمنی کی ہیلتھ انڈسٹری پر برے اثرات مرتب ہوں گے۔ اور لوگ ہسپتال آتے ہوئے ڈریں گے۔
یاد رہے 2019 میں بھی ایک جرمن نرس کو عمر قید کی سزا دی گئی تھی ۔ اس نرس نے 85 مریضوں کو قتل کر دیا تھا۔