آئر لینڈ : فٹبال سے متعلق باڈی کاای یو کی فٹبال ایسوسی ایشن سے اسرائیل پر پابندی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

آئر لینڈ کی فٹ بال سے متعلق گورننگ باڈی نے یورپی یونین سے ہفتے کے روز مطالبہ کیا ہے کہ غزہ جنگ اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے علاوہ یورپی یونین کے اصولوں اور قواعد کی خلاف ورزہ کا ارتکاب کرنے کے باعث اسرائیل پر پابندی لگائی جائے ۔

یورپی یونین فٹبال ایسوسی ایشن سے یہ مطالبہ آئرش گورنگ باڈی نے اپنے اجلاس میں ووٹنگ کے دوران بھاری اکٹریت سے کیا ہے۔ تاکہ یورپی یونین فوری طور پر اسرائیل پر پابندی لگائے۔ آئرش فٹبال باڈی کا یہ مطالبہ منظور شدہ قرار داد کی صورت کیا گیا ہے۔

آئر لینڈ کی فٹبال ایسوسی ایشن نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ اسرائیل کی فٹبال ایسوسی ایشن نے یورپی ایسوسی ایشن کے قواعد کی دو خلاف ورزیاں کی ہیں۔ کیونکہ اسرائیل نے نسل پرستی کی پالیسی پر عملدرآمد کا کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا۔ نیز اسرائیلی فٹ بال کلب مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کی اجازت کے بغیر کھیلتے ہیں۔

فٹبال ایسوسی ایشن کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آئر لینڈ کے فٹبال کلب کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد کو 74 ووٹوں کی حمایت حاصل تھی۔ قراداد کی مخالفت میں 7 ووٹ آئے جبکہ 2 کی طرف سے حق رائے دہی استعمال نہ کیا گیا۔

'یو ای ایف اے' کے ترجمان نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کو ایک ذریعے نے بتایا کہ 'یو ای ایف اے' نے غزہ میں اسرائیلی جنگ کی وجہ سے یورپی مقابلوں میں اسرائیل کی شرکت کی معطلی سے متعلق ووٹنگ پر گزشتہ ماہ غور کیا ہے۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے کے بعد اسرائیل کی معطلی اور پابندیوں سے متعلق بات چیت کو ایک طرف رکھ دیا گیا ہے۔

خیال رہے آئر لینڈ کی طرف سے سامنے آنے والی قراداد ترکیہ اور نارویجین فٹبال باڈیز کی طرف سے ماہ ستمبر میں کیے گئے مطالبات کے بعد سامنے آئی ہے۔ ان میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اسرائیل کو بین الاقوامی مقابلوں سے معطل کیا جائے۔

یہ مطالبہ اس وقت کیا گیا جب اقوام متحدہ کے ماہرین نے فیفا ورلڈکپ اور 'یو ای ایف اے' سے اپیل کی کہ اسرائیل کو بین الاقوامی فٹبال سے معطل کیا جائے۔

اقوام متحدہ کی انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی ہے۔ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کی تردید کرتا ہے اور اقوام متحدہ کی رپورٹ کو افسوسناک قرار دیا۔ یاد رہے اب تک اسرائیلی ریاست ۔ے 69169 فلسسطینیوں کو قتل کیا ہے۔ جن میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی ۔ جبکہ ان فلسطینیوں میں سینکڑوں کی تعداد میں وہ بھی شامل ہیں جن کے خلاف اسرائیل نے بھوک اور قحط کا ہتھیار استعمال کیا ہے۔ نیز جنگ بندی کے دوران اسرائیلی بمباری سے ہلاک ہونے والے فلسطنی بھی سینکڑوں کی تعداد میں ہیں۔

یورپی فٹبال ایسوسی ایشن کی گورننگ باڈی کے پاس اسرائیلی ٹیموں کو مقابلے سے معطل کرنے کا اختیار ہے۔ تاہم اس امر کا امکان موجود ہے کہ وہ اسرائیل کو مقابلوں میں حصہ لینے سے نہ روک سکے جو فیفا کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔

سینیئر امریکی ریپبلکن قانون ساز لنڈسے گراہم نے جمعہ کے روز 'ایف اے آئی' کو ووٹنگ پر تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا اسرائیل کو فٹبال کی دنیا سے پیچھے کرنے کی کوشش کرنے والوں کو اپنے اس کیے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں