فیدل کاسترو کی جانب سے تحفے میں دی گئی بندوق سے کس ملک کے صدر نے خود کشی کی ؟
سلفادور آلنڈی کی پالیسیاں چلی میں اقتصادی بحران کا سبب بنیں
بیسویں صدی کے دوران لاطینی امریکہ میں متعدد فوجی بغاوتیں ہوئیں۔ کچھ بغاوتیں تیز اور بغیر جانی نقصان کے ہوئیں جبکہ دیگر نے خون ریز نتائج پیدا کیے۔ سرد جنگ کے دوران جب مغربی بلاک اور مشرقی بلاک کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی، یہ بغاوتیں مزید شدت اختیار کر گئیں۔ اس دور میں امریکہ نے علاقے میں سویت یونین کے حامی سوشلسٹ نظاموں مثلا کیوبا کے نظام کے قیام کو روکنے کی کوشش کی۔
ان بغاوتوں میں سب سے نمایاں 1973 میں چلی میں جنرل آگوستو پینوشے کی قیادت میں ہونے والی بغاوت تھی۔ اس میں صدر سلفادور آلنڈی ایک مشکوک حالت میں انتقال کر گئے اور سرکاری ذرائع نے بتایا کہ انھوں نے خود کشی کی تھی تاکہ اپنے آپ کو گرفتار نہ ہونے دیں۔
آلنڈی جو عوامی اتحاد سے تعلق رکھتے تھے، 1970 میں صدر منتخب ہوئے اور ملک میں بڑے پیمانے پر سماجی و اقتصادی اصلاحات کا وعدہ کیا۔ انھوں نے منصوبہ بندی کے تحت سرمایہ کاری اور زمین کی اصلاحات کے ذریعے ملک کو سوشلسٹ خطوط پر منتقل کرنے کی کوشش کی، جس میں بنیادی وسائل اور بینکوں کا قومیائے جانا بھی شامل تھا۔ ان اقدامات نے امریکی کمپنیوں اور چلی کے دولت مند افراد کی ناراضگی کو جنم دیا اور واشنگٹن کی تشویش بڑھائی کہ سویت یونین کو نیا اتحادی مل سکتا ہے۔
تاہم آلنڈی کی پالیسیاں ناکام رہیں، مہنگائی میں اضافہ ہوا (1973 تک 500 فی صد)، بنیادی اشیاء کی کمی ہوئی اور ملک امریکی دباؤ اور بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے تنہائی کا شکار ہوا۔ ہڑتالوں اور پیداوار کے رکنے سے معیشت مزید متاثر ہوئی۔
امریکی حمایت یافتہ جنرل پینوشے نے 11 ستمبر 1973 کو بغاوت کی قیادت کی۔ آلنڈی نے ریڈیو کے ذریعے عوام سے آخری خطاب کیا، انقلاب کی مذمت کی اور اپنے ملک کے مستقبل پر اعتماد ظاہر کیا۔ بغاوت کے دوران انہوں نے اپنے مدد گاروں کا شکریہ ادا کیا اور پھر ریاستی محل میں خود کشی کر لی۔ اس میں انھوں نے کلاشینکوف رائفل استعمال کی جو انہیں کیوبا کے معروف رہنما فیدل کاسترو کی طرف سے تحفے میں ملی تھی۔ اس پر کاسترو کی جانب سے کندہ پیغام درج تھا۔
یہ واقعہ لاطینی امریکہ کی تاریخ کی سب سے یادگار فوجی بغاوتوں میں شمار ہوتا ہے اور امریکہ کی خطے میں مداخلت کی اہم مثال کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔