ایپسٹین فائلیں کیا ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

"ایپسٹین فائلیں" آخرِ کار عوام کے لیے جاری ہونے کے ایک قدم قریب ہیں جو برسوں سے بند پڑی ہیں اور ان پر جنونی قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں۔

سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی تحقیقات سے متعلق سرکاری فائلیں جاری کرنے کا حکم دینے کی منظوری کے لیے امریکی ایوانِ نمائندگان نے منگل کو بھاری اکثریت سے ووٹ دیا۔

امیر اور معروف شخصیات سے روابط کے حامل فنانسر کی 2019 میں جیل میں موت واقع ہو گئی جب وہ کم عمر لڑکیوں کی جنسی سمگلنگ کے الزام میں مقدمے کا منتظر تھا۔

لیکن اعلیٰ سطحی کاروباری افراد، مشہور شخصیات اور سیاست دانوں بشمول سابق قریبی دوست صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اس کے روابط پر عوامی غم و غصہ اس کی موت سے بھی کم نہ ہو سکا۔

تو ایپسٹین فائلیں دراصل ہیں کیا؟

ایپسٹین فائلیں

ایپسٹین فائلوں سے مراد وہ ڈھیروں شواہد ہیں جو امریکی محکمہ انصاف اور ایف بی آئی نے فلوریڈا میں ایک تحقیقات کے دوران جمع کیے جس کی وجہ سے اسے 2008 میں ایک نابالغ بچی کو جسم فروشی کے لیے خریدنے کے جرم میں سزا سنائی گئی اور اس تفتیش کے نتیجے میں نیویارک میں اس پر بعد میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔

سرکاری مواد کا صرف ایک پرزہ ہی عوامی طور پر جاری ہوا ہے جس کے بعد حالیہ دنوں میں ایپسٹین کے بارے میں متعدد انکشافات کا گویا سیلاب امڈ آیا ہے۔

ایوان کے منظور کردہ ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ میں کہا گیا ہے کہ ایپسٹین اور اس کی ساتھی غسلین میکسویل سے متعلق "عوامی رسائی کے لیے مجاز تمام ریکارڈز، دستاویزات، خط و کتابت اور تفتیشی مواد" 30 دنوں کے اندر جاری کیا جائے جو محکمہ انصاف، ایف بی آئی اور امریکی اٹارنی کے دفاتر کے قبضے میں موجود ہے۔

تریسٹھ سالہ خاتون میکسویل ایپسٹین کے لیے کم عمر بچیاں لانے کے جرم میں اس وقت 20 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہے۔

یہ خاتون واحد شخص ہے جسے بدنامِ زمانہ فنانسر کے سلسلے میں سزا سنائی گئی لیکن ٹرمپ کے حامی برسوں سے ایک عقیدے کی طرح اس بات پر ایمان برقرار رکھے ہوئے ہیں کہ "ڈیپ اسٹیٹ" اشرافیہ ڈیموکریٹک پارٹی اور ہالی ووڈ میں ایپسٹین کے ساتھیوں کی حفاظت کر رہے تھے۔

ایف بی آئی/محکمہ انصاف کا میمو

ایف بی آئی اور محکمہ انصاف نے جولائی میں ایک میمو جاری کر کے سیاسی ہنگامہ برپا کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ "مکمل جائزے" کے بعد ایپسٹین پر تحقیقاتی فائلوں سے شواہد کے مزید انکشافات نہیں کیے جائیں گے۔

ایف بی آئی/محکمہ انصاف میمو میں کہا گیا تھا کہ اس بات کا "کوئی قابلِ اعتماد ثبوت نہیں ملا ہے کہ ایپسٹین نے اپنے غلط کاموں میں شریک ہونے کی بنا پر ممتاز افراد کو بلیک میل کیا" یا اس کی کوئی "کلائنٹ لسٹ" تھی۔

ایف بی آئی اور محکمہ انصاف نے کہا کہ ایپسٹین نے ذاتی طور پر "ایک ہزار سے زیادہ متأثرین کو نقصان پہنچایا" لیکن "ہم نے ایسے شواہد بے نقاب نہیں کیے جو غیر ملزم فریقِ ثالث کے خلاف تحقیقات کی پیش گوئی کر سکیں۔"

میمو میں کہا گیا ہے کہ ایپسٹین کے الیکٹرانک آلات کی ڈیجیٹل تلاشی اور اس کی مختلف جائیدادوں بشمول ایک نجی کیریبین جزیرے کی ظاہری تلاشی سے "خاطرخواہ مقدار میں مواد برآمد ہوا جس میں 300 گیگا بائٹس سے زیادہ معلومات اور ظاہری ثبوت شامل ہیں"۔

ٹرمپ اور ایپسٹین

ٹرمپ نے اپنی صدارتی مہم ایپسٹین فائلیں جاری کرنے کے عہد کی بنیاد پر چلائی اور اقتدار سنبھالنے کے بعد سے وہ کانگریس کی مداخلت کے بغیر کسی بھی وقت ایسا کر سکتے تھے۔

لیکن جنوری میں وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کے بعد ٹرمپ نے فائلیں جاری کرنے کے بارے میں اپنا ارادہ بدل دیا اور انہیں افشا کرنے کی حمایت صرف اس ہفتے کی جب یہ واضح ہو گیا کہ کانگریس ان کے اجراء کے حق میں ووٹ دینے والی تھی۔

راستہ بدلنے سے پہلے ریپبلکن صدر نے اٹارنی جنرل پام بوندی کو حکم دیا کہ وہ ایپسٹین اور سابق صدر بل کلنٹن سمیت سرکردہ ڈیموکریٹس کے درمیان روابط کی تحقیقات شروع کریں۔

ٹرمپ کی طرح کلنٹن بھی ایک دور میں ایپسٹین کے قریب تھے لیکن ان میں سے کسی شخص پر کبھی کسی غلط کام کا الزام نہیں لگایا گیا ہے۔

بوندی نے نیویارک میں ایک پراسیکیوٹر کو فوراً یہ کام سونپا اور یہ اقدام ممکنہ طور پر فائلوں میں موجود بعض مواد کے اجراء کو پیچیدہ بنا سکتا ہے یا اسے کاٹ کر بہت زیادہ مختصر کر دینے کا باعث بن سکتا ہے۔

ایوان میں پیش کردہ بل ایسا مواد روکنے کی اجازت دیتا ہے جو "ایک جاری وفاقی تحقیقات یا قانونی کارروائی کو خطرے میں ڈالنے کا سبب بنے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں