اسرائیل کی غزہ جنگ ، یورو ویژن کے ووٹنگ قواعد کی تبدیلی
یورپی دنیا میں موسیقی اور گانوں کے مقابلے کرانے کے سب سے بڑے یورپی فورم یورو ویژن کے منتظمین نے ارکان کے اعتماد کو بحال رکھنے کی خاطر ووٹنگ میں شفافیت کا اہتمام کیا ہے۔
یہ بات یورو ویژن کے منتظمین کی طرف سے جمعہ کے روز بتائی گئی ہے۔
منتظمین کے مطابق حالیہ برسوں میں اسرائیلی امیدواروں کے حوالے سے وسیع پیمانے پر پیدا شدہ تنازعہ کے بعد یورپی براڈ کاسٹنگ یونین اپنے ووٹنگ قواعد کو تبدیل کرے گی۔
یہ فیصلہ اگلے سال ماہ مئی ویانا میں ہونے والے اپنے میوزک میلے سے پہلے ووٹنگ قوانین میں متعدد تبدیلیاں کی جائیں گی۔
اس قواعد تبدیلی کی تجویز کے مطابق عوامی ووٹوں کی تعداد نصف کرنا ہوگی۔ نیز تیسرے فریق کے اختیارات اور فیصلوں پر اثر ڈالنے کے جائزے کو بھی تبدیل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں حکومتی حمایت یافتہ مہموں اور منظم جعلی ووٹنگ کی سرگرمیوں کا پتہ لگا کر انہیں روکنے کی کوششوں کو فروغ دیا جائے گا۔
خیال رہے یہ اعلان اس دھمکی کے بعد کیا گیا ہے جس میں سپین ، ہالی وڈ اور سپین سمیت متعدد یورپی ممالک نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل کو یورو ویژن میں شریک کیا گیا تو یہ ممالک 2026 کے مقابلوں کا بائیکاٹ کریں گے۔ کئی دوسروں نے بھی بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی ہے ۔
ہالینڈ کے براڈ کاسٹر سارٹوروا نے اپنے اس بائیکاٹ ارادے کی حمایت میں بات کرتے ہوئے کہا ہے اسرائیل میں آزادی صحافت کی سنگین خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں۔ نیز اسرائیلی ریاست یورپی براڈ کاسٹر یونین کے ڈائریکٹر مارٹن گرین نے کہا ہم اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کوشش کررہے ہیں کہ یورو ویژن ایک موسیقی کا مقابلہ ہی رہے اور اتحاد کے جشن کے طور پر منعقد کیا جاتا رہا ۔ اس پلیٹ فارم کو غیر جانبدار رہنا اور کسی کا آلہ کار نہیں بننا ہے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ اب تک 20 ووٹوں کی اجازت ایک ہی ادائیگی کے بدلے ہو جاتی تھی۔ اب یہ دس ووٹوں تک کم کر دی جائے گی۔ یہ تجویز پچھلے گانوں کے مقابلے میں اسرائیلی ووٹوں پر کی گئی لابنگ کے باعث کی جارہی ہے۔ تاکہ ایسا دوبارہ نہ ہو سکے۔ اسرائیل کی غزہ میں جنگ بندی کے باوجود ابھی اسرائیل کے بارے میں کئی ملکوں کے تحفظات باقی ہیں۔ اس لیے جنگ بندی پر عمل درآمد کا جائزہ بھی ماہ دسمبر میں لیے جانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔