اطالوی گلوکار کا "توت عنخ آمون" گانا سوشل پلیٹ فارمز پر خوب مقبولیت حاصل کر رہا ہے

یہ گانا اطالویوں کی قدیم مصری تہذیب سے گہری پسندیدگی کو ظاہر کرتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

''توت عنخ آمون ''کے عنوان سے ایک اطالوی گانے نے بہت توجہ حاصل کی ہے، جس میں اطالوی لوگ قدیم مصری تہذیب خاص طور پر فرعون توت عنخ آمون کے لیے اپنی عقیدت اور پسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں۔ توت عنخ آمون کم عمری میں مصر کے تخت پر بیٹھے تھے اور ان کی قبر گزشتہ صدی کے آغاز میں دریافت ہوئی تھی۔

آج تک ان کی زندگی کے کئی راز حل نہیں ہو سکے۔یہ گانا اُس وقت مزید مقبول ہوگیا جب نومبر کے آغاز میں مصر کے عظیم میوزیم کے افتتاح کے موقع پر اس میں فرعون کے سنہری ماسک کی جھلک دکھائی گئی۔
سوشل میڈیا پر یہ گانا ٹرینڈ کی فہرستوں میں سرفہرست رہا۔ یہ گانا اطالویوں کی قدیم مصری تہذیب خاص طور پر توت عنخ آمون سے گہری دلچسپی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

گانے کے بول میں شامل ہے:

توت عنخ آمون… بچپن کا بادشاہ، نیل کی وادی میں عظیم تقدیر، وہ دس برس کا تھا،جب مصر کے تخت پر بیٹھا، سونے کا نقاب۔۔ ایک تحریر شدہ معمہ۔۔ اخناتون کا بیٹا… سورج اس کی طرف لوٹ آتا ہے، قدیم فرعون اپنی آوازیں واپس پاتے ہیں، وہ خاموشی میں سوتا ہے… لیکن اس کا نام ایک گانا بن چکا ہے، توت عنخ آمون… صحرا سے دنیا تک۔

اس گانے نے سوشل میڈیا صارفین کے درمیان ردعمل اور بحث کو جنم دیا، جہاں لوگوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ قدیم مصری تہذیب آج بھی دلکشی رکھتی ہے اور خیالات کو متاثر کرتی ہے، خصوصاً فرعون توت عنخ آمون کی شخصیت۔

صارفین نے تبصرہ کیا ہے کہ اٹلی سے آنے والا بادشاہ توت کا گانا اس بات کا ثبوت ہے کہ مصر آج بھی دنیا کے دل میں ہے اور ہماری تہذیب ایک بار پھر اپنا مقام حاصل کر رہی ہے۔

نوجوان بادشاہ کی کہانی

بادشاہ ''توت عنخ آمون'' نے نو سال کی عمر میں تخت سنبھالا، اور اسے "دیوتا آمون کی زندہ شکل" کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔

اس کے دورِ حکومت میں مصر کی تاریخ میں ایک اہم تبدیلی آئی، کیونکہ بادشاہ اخناتون کی طرف سے تمام دیوتاؤں کو ایک خدا کی عبادت میں متحد کرنے کی کوشش کے بعد کئی خداؤں کی عبادت دوبارہ بحال ہوگئی۔


بادشاہ'' توت عنخ آمون'' کی موت کا راز آج بھی ماہرین کے لیے معمہ ہے۔ کچھ نظریات یہ امکان ظاہر کرتی ہیں کہ شاید اسے اس کے وزیر نے قتل کیا ہو، خاص طور پر اس لیے کہ وزیر نے بعد میں بادشاہ کی بیوہ سے شادی کر لی تھی۔

اس کی موت کے اسباب پر بحث ابھی تک جاری ہے۔ کچھ لوگ اسے سازش سمجھتے ہیں، جبکہ کچھ اسے ملیریا کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، مگر اب تک ان میں سے کسی بھی نظریے کے حق میں قطعی ثبوت موجود نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں