یوکرین ہماری کوششوں کو نظر انداز کر رہا: ٹرمپ، ہم امریکہ کے شکرگزار ہیں: زیلنسکی
اگر امریکہ اور یوکرین کی قیادت مضبوط ہوتی تو جنگ نہ ہوتی: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو یوکرین پر الزام لگایا کہ وہ ان کی کوششوں کے لیے ناشکری دکھا رہا ہے۔ جواب یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا کہ ہم ٹرمپ اور امریکہ کے ہر کوشش کے لیے شکر گزار ہیں۔ زیلنسکی نے زور دیا کہ ان کا ملک امن کے حصول کے لیے تمام نکات اور اقدامات پر کام کر رہا ہے۔ یوکرینی صدر نے پلیٹ فارم ’’ ایکس ‘‘ پر لکھا کہ یوکرین امریکہ کا، ہر امریکی دل کا اور صدر ٹرمپ کا ذاتی طور پر اس مدد کے لیے شکر گزار ہے۔ اس مدد نے یوکرینیوں کی جانیں بچائی ہیں۔
ٹرمپ نے پلیٹ فارم ’’ ٹروتھ سوشل ‘‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یوکرین کی قیادت نے ہماری کوششوں کے لیے ناشکری کا مظاہرہ کیا ہے اور یورپ بھی روس سے تیل خرید رہا ہے۔ امریکہ نیٹو اتحادیوں کو یوکرین کی تقسیم کے لیے بھاری مقدار میں اسلحہ فروخت کر رہا ہے۔ بدعنوان جو بائیڈن نے بڑی رقم سمیت سب کچھ مفت، مفت، مفت فراہم کیا۔ اللہ ان تمام متاثرین پر رحم کرے جنہوں نے اس انسانی تباہی میں اپنی جانیں گنوائیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ شدید اور خوفناک ہے اور اگر امریکہ اور یوکرین کی قیادت مضبوط ہوتی تو یہ جنگ کبھی نہ ہوتی۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ جنگ میرے دوسری مدت کے عہدہ سنبھالنے سے بہت پہلے، نیند میں ڈوبے جو (سابق امریکی صدر) کی انتظامیہ کے دوران شروع ہوئی اور جنگ بدتر ہوتی گئی۔ اگر 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات میں دھاندلی نہ ہوتی اور وہ چوری نہ ہوتے، جو کہ ریڈیکل لیفٹ ڈیموکریٹس کی واحد خوبی ہے، تو یوکرین اور روس کے درمیان جنگ نہ ہوتی۔ میرے پہلے دور میں بھی اس کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
ٹرمپ نے زور دیا کہ پوتین کبھی حملہ نہ کرتے، صرف جب انہوں نے نیند میں ڈوبے جو کو عہدے پر دیکھا تو کہا کہ اب میرا موقع ہے! مجھے ایک ایسی جنگ ورثے میں ملی جو کبھی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ ایک ایسی جنگ جس میں سب کا نقصان ہوا خاص طور پر لاکھوں لوگ جو بلاوجہ مارے گئے۔ یوکرین اور اس کے مغربی اتحادیوں کے حکام نے اتوار کو جنیوا میں امریکی امن منصوبے پر بات چیت شروع کی ہے۔
یوکرینی صدر زیلنسکی نے امید ظاہر کی ہے کہ جنیوا میں یوکرینی، امریکی اور یورپی ٹیموں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور وزیر خارجہ مارکو روبیو روس-یوکرین جنگ کو ختم کرنے کے لیے جاری بات چیت میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہ جنگ اب چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے۔
جمعہ کو امریکی صدر نے اپنے یوکرینی ہم منصب زیلنسکی کو جمعرات تک کی مہلت دی تھی کہ وہ 28 نکاتی منصوبے پر رضامندی ظاہر کریں۔ یہ منصوبہ یوکرین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کچھ علاقے چھوڑ دے۔ اپنی فوج پر عائد پابندیوں کو قبول کرے اور نیٹو میں شمولیت کے اپنے عزائم ترک کر دے۔