اسلامی جہاد کا غزہ میں اسرائیلی قیدی کی باقیات ملنے کا دعویٰ

اسرائیلی فوج کی طرف سے بمباری جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسلامی جہاد کے عسکری ونگ سرايا القدس نے پیر کے روز اعلان کیا کہ اس نے غزہ کے ایک ایسے علاقے میں ایک اسرائیلی قیدی ر کی باقیات برآمد کی ہیں جو اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے۔

سرايا القدس نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم نے وسطی غزہ کے ان علاقوں میں کھدائی اور تلاش کے دوران دشمن کے ایک ہلاک شدہ قیدی کی لاش دریافت کی ہے جن پر اسرائیلی فوج قابض ہے۔

ادھر میدانی صورتحال میں گذشتہ روز ایک اور پیش رفت کے طور پر العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے خان یونس کے مشرقی علاقوں پر گولا باری کی جبکہ شہر کے اطراف راکٹ داغے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔

نامہ نگار کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی غزہ کے شہر رفح پر بھی فضائی حملے کیے۔

اس کے علاوہ اسرائیلی بحری جہازوں نے رفح کے ساحلی علاقوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔

ادھر اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے کہا کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء کو حماس کے اچانک حملے میں ہونے والی ناکامیوں کے باعث متعدد اعلیٰ فوجی افسران کو برطرف کیا گیا ہے جبکہ دیگر کو سرزنش کی گئی ہے۔

فوج کے بیان میں کہا گیا کہ کئی افسران کو ریزرو سروس سے فارغ کرنے اور ان کی فوجی خدمات ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ان میں ایسے افسران بھی شامل ہیں جنہوں نے خود استعفے دیے۔

ایال زامیر کا کہنا تھا کہ وہ مزید اسرائیلی فوجی اہلکاروں کے خلاف بھی تادیبی کارروائیاں کریں گے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ مشکل ضرور ہے مگر فوجی نظام پر اعتماد بحال کرنے کے لیے ضروری ہے۔

یہ نئی سزائیں ایسے وقت میں دی گئی ہیں جب اسرائیلی حکام کو اندرون ملک سات اکتوبر کی ناکامیوں کی جواب دہی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔

ابھی تک وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی حکومت نے سات اکتوبر کے حملے کی کوئی قومی سطح کی تحقیقات شروع نہیں کیں۔ دو روز قبل ہفتے کی شب ہزاروں مظاہرین تل ابیب میں اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ احتجاج کرتے ہوئے ایک باضابطہ تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کا مطالبہ کر رہے تھے۔

اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں کے سات اکتوبر کے حملے میں تقریباً بارہ سو افراد مارے گئے تھے جبکہ ڈھائی سو افراد کو یرغمال بنا کر غزہ منتقل کیا گیا۔

حملے کے جواب میں اسرائیل نے غزہ پر وسیع پیمانے پر زمینی اور فضائی جنگ مسلط کر دی جس سے غزہ کا بڑا حصہ تباہ ہوا اور فلسطینی حکام کے مطابق اب تک لگ بھگ انہتر ہزار افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

گذشتہ ماہ امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا ایک معاہدہ بھی طے پایا جو جنگ کے خاتمے کا ایک ابتدائی مرحلہ وار منصوبے کا حصہ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں