اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کے اعلان کے مطابق فوج نے منگل کے روز غزہ سے موصول ہونے والی لاش کی شناخت کر لی ہے۔
آج بدھ کے روز جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ "نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فارنسک میڈیسن کی جانب سے شناخت کا عمل مکمل کرنے کے بعد، اسرائیلی فوج کے نمائندوں نے یرغمالی کے گھر والوں کو اطلاع دی کہ ان کے بیٹے 'ڈرور اور' کی لاش اسرائیل واپس پہنچ گئی ہے"۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اسرائیل نے گذشتہ شام بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے ذریعے "ڈرور اور" کی لاش وصول کی، جو غزہ کی پٹی میں باقی تین یرغمالیوں میں سے ایک تھا۔ یہ عمل امریکہ کی ثالثی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان طے پائے گئے جنگ بندی معاہدے کے تحت انجام دیا گیا۔
اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے مطابق، حماس کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ 28 ہلاک شدہ یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کرے۔
اس کے بدلے میں اسرائیل غزہ کے مقامی حکام کو ہر واپس کی گئی لاش کے بدلے 15 شہریوں کی باقیات فراہم کرتا ہے۔
اب تک حماس نے مجموعی طور پر 26 میں سے 28 لاشیں واپس کر دی ہیں، جبکہ ابھی 2 لاشوں (ایک اسرائیلی اور ایک تھائی) کی تلاش جاری ہے۔
اس معاملے نے بین الاقوامی سطح پر خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ یہ مرحلہ غزہ کی جنگ بندی کے دوسرے مرحلے اور متاثرہ علاقے کی تعمیر نو میں رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے۔