بھارت کو سال کے آخر تک امریکہ سے تجارتی معاہدے کی توقع ہے: سینئر عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

نئی دہلی کے تجارتی سکریٹری نے جمعہ کو کہا ہے کہ بھارت کو اس سال کے اختتام سے پہلے امریکہ سے تجارتی معاہدہ طے ہو جانے کی توقع ہے کیونکہ زیادہ تر مسائل حل ہو چکے ہیں۔

امریکہ نے اگست کے آخر میں شروع ہونے والی بھارتی درآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان گفتگو جاری تھی۔

اس ماہ کے شروع میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ بھارتی وزیرِ اعظم سے مذاکرات مثبت رہے۔ روس سے تیل کی خریداری کم کرنے اور زراعت جیسے حساس شعبوں سمیت دیگر پر ٹیرف کم کرنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ نے بھارت پر دباؤ ڈالا ہے۔

بھارت کے تجارتی سکریٹری راجیش اگروال نے فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایک پروگرام میں صنعت کار رہنماؤں کو بتایا، "سب سے پہلے فریم ورک تجارتی معاہدے کی ضرورت ہے جو باہمی ٹیرف کا مسئلہ حل کرنے کے قابل ہو۔"

"میرے خیال میں مَیں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ہم قریب پہنچ گئے ہیں، ہم نے زیادہ تر مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے،" اگروال نے بتایا اور مزید کہا، باقی کوئی بھی مسائل "سیاسی سطح" پر حل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "ہم بہت پُرامید ہیں اور مثبت توقعات رکھتے ہیں کہ ہمیں اسی سال کے اندر کوئی حل تلاش کر لیں گے۔"

بھارت کا تجارتی خسارہ اکتوبر میں 41.68 بلین ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا جس کا محرک سونے کی زیادہ درآمدات اور امریکہ کو برآمدات میں کمی تھا۔

اگروال نے کہا، خسارہ "پریشان کن حالت" میں نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں