جزیرہ نما سری لنکا میں ایک طاقتور طوفان کے نتیجے میں شدید بارشوں اور مٹی کے تودے گرنے کے بعد دارالحکومت کولمبو کے پورے پورے علاقے اتوار کو سیلاب کی زد میں آ گئے جبکہ حکام نے تقریباً 200 افراد کی ہلاکت اور درجنوں کی گمشدگی کی اطلاع دی۔
حکام نے بتایا ہے کہ ملک کے سب سے زیادہ متأثرہ وسطی علاقے میں ہونے والے نقصان کی حد کا انکشاف ابھی ہوا ہے جب امدادی کارکنوں نے گرے ہوئے درختوں اور مٹی کے تودے ہٹا کر بند سڑکیں صاف کیں۔
ڈیزاسٹر منیجمنٹ سینٹر (ڈی ایم سی) نے کہا کہ سمندری طوفان دتوا کی وجہ سے ایک ہفتے کی شدید بارشوں کے بعد کم از کم 193 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 228 لوگ لاپتہ ہیں۔
ڈی ایم سی نے کہا کہ دریائے کیلانی میں پانی کی سطح تیزی سے بڑھنے سے کولمبو کے شمالی حصے سیلاب کی زد میں آ گئے۔
ڈی ایم سی کے ایک اہلکار نے کہا، "اگرچہ طوفان گذر چکا ہے لیکن اب شدید بارشوں سے دریائے کیلانی کے کنارے نشیبی علاقے سیلاب کی زد میں آ گئے ہیں"۔
سمندری طوفان دتوا نے ہفتہ کو بھارت کا رخ کر لیا۔
کولمبو کے شمال مشرق میں 250 کلومیٹر (156 میل) کے فاصلے پر منامپیتیا قصبے میں پانی کی سطح کم ہو رہی ہے جس سے وسیع تباہی سامنے آئی ہے۔
کئی سالوں میں مہلک ترین طوفان
قومی انتقالِ خون سروس میں بلڈ بینک کے سربراہ لکشمن ادریسنگھے نے کولمبو میں نامہ نگاروں کو بتایا، "سیلاب اور شدید بارشوں کی وجہ سے ہم خون جمع کرنے کے لیے اپنی موبائل مہم چلانے سے قاصر تھے۔ ہم عطیہ دہندگان سے قریبی بلڈ بینک میں جانے کی اپیل کرتے ہیں۔"
پہاڑیوں کے استحکام پر نظر رکھنے والی نیشنل بلڈنگ ریسرچ آرگنائزیشن نے کہا کہ مزید تودے گرنے کا کافی خطرہ ہے کیونکہ پہاڑی نشیب بدستور بارشی پانی سے سیر ہے۔
صدر انورا کمارا ڈسانائیکے نے طوفان کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ہفتے کے روز ہنگامی حالات کا اعلان کیا اور بین الاقوامی امداد کی اپیل کی۔
بھارت نے سب سے پہلے امدادی سامان اور امدادی مشن انجام دینے کے لیے عملے کے ہمراہ دو ہیلی کاپٹر بھیجے۔ حکام نے بتایا کہ اتوار کو مزید دو ہیلی کاپٹر شامل ہونے والے تھے۔
سری لنکا کی فضائیہ کے مطابق پاکستان بھی امدادی ٹیمیں بھیج رہا ہے۔ جاپان نے کہا کہ وہ فوری ضروریات کا جائزہ لینے کے لیے ایک ٹیم بھیجے گا اور مزید امداد کا وعدہ کیا ہے۔
شدید موسمی حالات نے 25,000 سے زیادہ گھر تباہ کر دیے ہیں اور 147,000 لوگ عارضی سرکاری پناہ گاہوں میں منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
سیلاب سے بے گھر ہونے کے بعد مزید 968,000 لوگوں کو امداد کی ضرورت ہے۔
امدادی سرگرمیوں میں مدد کے لیے سویلین ورکرز اور رضاکاروں کے ساتھ فوج، بحریہ اور فضائیہ کے دستے تعینات کیے گئے ہیں۔
یہ طوفان 2017 کے بعد سری لنکا کی مہلک ترین قدرتی آفت ہے۔ اس وقت سیلاب اور تودے گرنے سے 200 سے زیادہ افراد کی جان چلی گئی اور لاکھوں بے گھر ہو گئے تھے۔
نئی صدی شروع ہونے کے بعد بدترین سیلاب جون 2003 میں آیا تھا جب 254 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
-
مصنوعی ذہانت کی ملازمتوں کی شرح نمو ... سعودی عرب کا دنیا میں تیسرا نمبر
مملکت نے مصنوعی ذہانت کی عالمی مہارتوں کو متوجہ کرنے میں ساتواں نمبر حاصل کیا
مشرق وسطی -
مصر میں شادی اور طلاق کی شرح میں افسوس ناک حد تک اضافے کا انکشاف کیا!
گزشتہ سال کے دوران طلاق کے کیسز کی تعداد 8 اعشاریہ 273ہزار تک پہنچ گئی
مشرق وسطی -
بھارتی حکام نے قاتل بھیڑیوں کا سراغ لگا کر حملہ کرنے کے لیے ڈرون تعینات کر دیے
حکام نے اتوار کو بتایا کہ حالیہ ہفتوں میں جانوروں کے ہاتھوں نو افراد جن میں زیادہ ...
بين الاقوامى