دماغ کے مہلک سرطان کے علاج کے لیے ناک میں ڈالے جانے والےقطرے تیار
امریکہ میں ماہرین نے دماغ کے ایک خطرناک سرطان ’’گلیوبلاسٹوما‘‘ کے علاج کے لیے ایک نئی غیر مداخلتی حکمت عملی تیار کرلی ہے جسے طبّی حلقوں میں اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی جامعات واشنگٹن اور نورتھ ویسٹ، ریاست الی نوائے کے محققین نے ایسے ناک میں ڈالے جانے والے قطرے تیار کیے ہیں جن میں خصوصی امینو ایسڈ شامل ہیں۔ یہ امینو ایسڈ جسم کے مدافعتی نظام کو اس انداز سے متحرک کرتے ہیں کہ وہ سرطان کو خود ہدف بنا سکے۔
ماہرین نے تحقیقاتی ویب سائٹ ’’سائٹیک ڈیلی‘‘ کو بتایا کہ ان قطروں نے تجرباتی چوہوں پر ہونے والی آزمائشوں میں مدافعتی نظام کو فعال بنا کر سرطان زدہ خلیوں کو نشانہ بنایا۔
گلیوبلاسٹوما امریکہ میں دماغ کے عام اور مہلک ترین سرطانوں میں سے ایک ہے جو ہر ایک لاکھ میں سے تقریباً تین افراد کو متاثر کرتا ہے۔ یہ سرطان دماغ میں تیزی سے پھیلتا ہے اور اکثر مریض کو موت کے قریب لے جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بیماری کے علاج میں سب سے بڑی رکاوٹ دوا کو دماغ تک مؤثر انداز میں پہنچانا ہے۔
واشنگٹن یونیورسٹی سے وابستہ ماہرِ اعصاب اور سائیٹمین کینسر سینٹر کے دماغی سرطان کے شعبے کے ریسرچ ڈائریکٹر ڈاکٹر الیگزینڈر سٹیگ نے کہا کہ ’’ہم اس حقیقت کو بدلنا چاہتے تھے اور ایسا غیر مداخلتی طریقہ علاج تیار کرنے کے خواہش مند تھے جو مدافعتی نظام کو سرطان کے خلاف سرگرم کرسکے‘‘۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’’ہم نے اس تحقیق کے ذریعے جینیاتی انجینئرنگ کی مدد سے نہایت باریک نینو ساختیں تیار کی ہیں جو دماغ کے اندر مضبوط مدافعتی ردعمل پیدا کرتی ہیں اور یوں سرطان کے خلاف امیونوتھراپی کے راستے کو نئی جہت دیتی ہیں‘‘۔