کیا بشار الاسد نے پوتین سے ملاقات کی؟ کریملن کا جواب دینے سے انکار
آٹھ دسمبر 2024 کو سابق شامی صدر انسانی وجوہات کی بنا پر روس چلے گئے تھے
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اعلان کیا ہے کہ کریملن شام کے سابق صدر بشار الاسد کے روس میں قیام کے بارے میں کوئی معلومات شیئر نہیں کر سکتا۔ پیر کے روز صحافیوں کو دیے گئے بیانات میں سابق شامی صدر کے روس میں قیام کے بارے میں کسی بھی معلومات فراہم کرنے اور کیا بشار الاسد نے اس دوران روسی صدر ولادیمیر پوتین سے ملاقات کی تھی، کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نہیں ہم اس موضوع پر کوئی معلومات شیئر نہیں کر سکتے۔
گزشتہ اکتوبر میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا تھا کہ ماسکو نے خالصتاً انسانی وجوہات کی بنا پربشار الاسد اور ان کے خاندان کو پناہ فراہم کی ہے۔ لاوروف نے اس وقت کہا تھا کہ بشار الاسد ہمارے پاس انسانی وجوہات کی بنا پر موجود ہیں، انہیں اور ان کے خاندان کو قتل کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں اور خالصتاً انسانی وجوہات کی بنا پر ہم نے انہیں اور ان کے خاندان کو تحفظ فراہم کیا ہے۔
گزشتہ فروری میں بشار کے بیٹے حافظ ایک ویڈیو کلپ میں نظر آئے تھے جسے سوشل میڈیا کے ذریعے شیئر کیا گیا تھا۔ اس میں میں وہ ماسکو کے ایک پوش علاقے میں گھوم رہے تھے اور نظام کے سقوط سے پہلے کے آخری دنوں کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ حافظ نے میڈیا میں گردش کرنے والی اس ویڈیو میں کہا کہ ہم نے شام سے بھاگنے کا منصوبہ نہیں بنایا تھا لیکن دمشق کے سقوط کے بعد روس نے ہمیں فوری طور پر ماسکو منتقل کر دیا۔
واضح رہے نومبر 2024 کے اواخر میں مسلح گروپوں نے شامی فوج کے ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا اور 8 دسمبر کو یہ گروپ دمشق میں داخل ہو گئے جس پر بشار نے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور اپنے خاندان کے ساتھ ملک چھوڑ دیا تھا۔