سعودی عرب اگلے سال اپنے ویژن 2030 کے تیسرے مرحلے میں داخل ہونے کی تیاری کر رہا ہے۔ دو اقتصادی ماہرین نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ کو بتایا کہ ویژن کا اگلا مرحلہ سعودی معیشت کو پائیداری کی طرف منتقل کرنے کے لیے چار بنیادی ستونوں پر مبنی ہو گا۔
1. گورننس کے ادارہ جاتی پہلو کو گہرائی
2. انسانی سرمائے اور علم کا فروغ
3. نجی شعبے کے کردار کی وسعت
4. منصوبہ بند تزویراتی اخراجات کے ذریعے مالی پائیداری کا حصول
سعودی کابینہ نے منگل کو مملکت کے سال 2026 کے بجٹ مسودے کی منظوری دی۔ متوقع مجموعی آمدنی تقریباً 1.147 ٹریلین ریال ہے اور مجموعی اخراجات تقریباً 1.313 ٹریلین ریال ہوں گے۔ اس کے نتیجے میں 165.4 بلین ریال کا خسارہ ہو گا۔ اگلے سال کے بجٹ کے اعلان کے بعد ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ویژن 2030 اپنے تیسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس کے لیے کوششوں کو دوگنا کرنا، کامیابی کی رفتار کو تیز کرنا اور پائیدار اثر حاصل کرنے کے لیے ترقی کے مواقع بڑھانا ضروری ہے تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے قومی تبدیلی کے فوائد کو مضبوط کیا جا سکے۔
گورننس کے ادارہ جاتی پہلو کی گہرائی
اقتصادی تجزیہ کار ڈاکٹر علی الحازمی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو وضاحت کی کہ 2030 کے بعد کا مرحلہ کوئی نیا پروگرام نہیں لائے گا بلکہ یہ ویژن کے آغاز سے قائم شدہ بنیادوں کو مزید گہرا کرنے کا تسلسل ہو گا جن میں حکمرانی کا ادارہ جاتی پہلو، انسانی سرمائے اور علم کی ترقی، اور نجی شعبے کے کردار کو وسعت دینا شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مالی پائیداری حساب کتاب کی پابند ہوگی ناکہ کفایت شعاری پر مبنی ہوگی۔ اس کے تحت توسیع پسندانہ اخراجات کی پالیسیاں خسارے کی محفوظ حد اور قرض کے تناسب کے اندر جاری رہیں گی۔
نجی شعبے کے کردار میں اضافہ
ڈاکٹر علی الحازمی نے مزید کہا کہ 2025 کی حقیقی کارکردگی اچھی تھی اور 2026 کا منصوبہ توسیعی رجحان کے تسلسل کی تصدیق کرتا ہے لیکن اخراجات کے معیار پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ یہ رجحان اقتصادی اثر کو زیادہ سے زیادہ کرنے میں معاون ہے، خاص طور پر غیر تیل سرگرمیوں کا معیشت میں 56 فیصد حصہ اور بے روزگاری کے کم ہو کر تقریباً 6 فیصد رہ جانے سے اقتصادی اثر پڑا ہے۔ یہ اشارے لیبر مارکیٹ کے اہداف کے حصول اور روزگار اور تربیت کے پروگراموں کے ثمرات حاصل ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق حقیقی مجموعی گھریلو پیداوار (GDP) میں 4.6 فیصد کی نمو ہوئی جسے غیر تیل سرگرمیوں میں توسیع نے فروغ دیا۔ ان غیر تیل کی سرگرمیوں نے اقتصادی ترقی کی قیادت میں اپنا اہم کردار جاری رکھا اور 4.8 فیصد کی نمو ریکارڈ کی۔ ڈاکٹر علی الحازمی نے آئندہ برسوں میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مصنوعی ذہانت میں بڑی توسیع کی توقع ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ اگلے مرحلے میں نئی ٹیکنالوجیز کا وسیع تر حصول اور ڈیٹا سینٹرز میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری دیکھنے میں آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ریاض میں شہروں اور شہری ترقی کے منصوبوں کو گہرا کیا جائے گا جس میں عوامی نقل و حمل کے منصوبے اور ’’ الریاض الخضراء ‘‘ پہل سے منسلک سڑکوں اور سبز جگہوں کی ترقی شامل ہے۔
سٹریٹجک اخراجات پر مبنی مالی پائیداری
دوسری جانب اقتصادی ماہر ڈاکٹر محمد القحطانی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو وضاحت کی کہ 2026 کا بجٹ اپنے پیشروؤں سے مختلف ہے کیونکہ یہ معیشت میں حقیقی تبدیلی کی پیمائش کرتا ہے جو مملکت کی بڑے منصوبوں کے لیے خود مالی اعانت کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔ یہ بجٹ معیشت کی سرگرمی کی پائیداری کو یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پائیداری کا مطلب اخراجات میں کمی نہیں ہے بلکہ تزویراتی اخراجات کو جاری رکھنا ہے کیونکہ آج کے اخراجات زیادہ ہدفی اور اقتصادی ترجیحات سے منسلک ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مملکت ترقیاتی اخراجات کو ترقی کی محرک قوت کے طور پر برقرار رکھتے ہوئے آپریٹنگ اخراجات کی نمو کو کم کرنے پر کام کر رہی ہے جو نئی ملازمتیں پیدا کرنے میں معاون ہے اور یہ کفایت شعاری کی پالیسی نہیں ہے بلکہ اخراجات کی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے ان کی از سر نو تشکیل ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سعودی عرب آج زیادہ خودمختار مالیاتی اوزار استعمال کر رہا ہے جن میں 20 اور 30 سال تک کے طویل مدتی بانڈز کا اجرا، ایشیا میں نئی منڈیوں کا کھولنا اور بجٹ کو عمومی بجٹ کے بجائے منصوبوں سے منسلک کرنا شامل ہے۔ یہ مالیاتی اوزار معیشت کو فروغ دیتے ہیں۔
ڈاکٹر محمد القحطانی کے مطابق اس سیاق و سباق میں آپریٹنگ اخراجات اور ترقیاتی اخراجات کے درمیان فرق نمایاں ہوتا ہے؛ آپریٹنگ اخراجات کو کنٹرول کیا جاتا ہے جبکہ سرمایہ کاری کے اخراجات زور و شور سے جاری رہتے ہیں ۔ یہ صورت حال مملکت کو تیل کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں بھی نمو کی شرح کو برقرار رکھنے کی اجازت دیتی ہے ۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ تیل ایک غیر مستحکم وسیلہ ہے جس پر تنہا انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سرمایہ کاروں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ سعودی معیشت اب تیل پر منحصر ایک معمولی معیشت نہیں رہی بلکہ یہ پائیداری کی طرف بڑھ رہی ہے جو اسے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے قابل بناتی ہے۔
سعودی معیشت کا سنہری چوکور
ڈاکٹر القحطانی نے اشارہ کیا کہ مملکت آج ایک بااثر اقتصادی طاقت میں تبدیل ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ یہ ایک ایسے راستے پر گامزن ہے جو دفاعی اخراجات کو بڑھاتا ہے، غذائی تحفظ کی سطح کو بلند کرتا ہے، سپلائی چینز کو ترقی دیتا ہے اور تکنیکی صنعت کو وسعت دیتا ہے۔ انہوں نے ان عناصر کو "سعودی معیشت کا چوکور" قرار دیا اور جن کی پیروی مملکت موجودہ مرحلے میں کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2026 میں داخل ہونے کے ساتھ ہی مملکت مہارتوں پر مبنی معیاری روزگار کی طرف منتقل ہونا شروع ہو گئی ہے۔ دفاعی خود انحصاری کے پروگرام آگے بڑھ رہے ہیں اور مقامی مینوفیکچرنگ کا تناسب نمایاں طور پر بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ اشارے ایک ایسے بجٹ کی عکاسی کرتے ہیں جو ایک مختلف منطق کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ یہ اب تیل پر نہیں بلکہ مستقبل پر مبنی ہے کیونکہ ریاست آج ایک پائیدار معیشت کی تشکیل کے لیے سرمایہ کاری کر رہی ہے جو اگلے بیس سالوں میں خطے کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
-
قطر کے امیر کا سعودی ولیٔ عہد کے نام گرامی نامہ ، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال
سعودی عرب کے ولیٔ عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کو امیرِ قطر شیخ تمیم بن ...
مشرق وسطی -
سعودی شہری کی اپنے مصری دوست سے 41 برس بعد ملاقات
پرانے خط کا پتہ مددگار، انٹرنیٹ نے فاصلے مٹا دیے
مشرق وسطی -
سعودی ولی عہد کی سنہ 2026ء کی بجٹ ترجیحات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت
سنہ 2026ء کی بجٹ آمدن 1.147 ٹریلین ریال، اخراجات 1.313 ٹریلین ریال:وزارت خزانہ
مشرق وسطی