اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی ہانس غروندبرگ نے حضرموت اور المہرہ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مکالمے کو واحد مؤثر راستہ قرار دیا اور مشرقی یمن میں سرگرم تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ انتہائی تحمل سے کام لیں۔
اپنے دفتر سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ یمنی فریقوں کے درمیان مکالمے کی گنجائش برقرار رکھنا نہ صرف استحکام کے لیے اہم ہے بلکہ یمنی عوام کے مفاد میں بھی ہے۔
غروندبرگ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ یمن کے فریقوں کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کشیدگی میں کمی اور سیاسی تصفیے کے امکانات کو مضبوط بنانے کیلئے اپنا کردار جاری رکھیں گے۔
یہ اعلان ان کی ریاض آمد کے دوران سامنے آیا جہاں انہوں نے یمنی وزیر خارجہ شائع الزندانی، سعودی عرب کے یمن میں سفیر محمد آل جابر، امارات کے یمن میں سفیر محمد الزعابی اور سلامتی کونسل کے مستقل پانچ ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔
حضرموت اور المہرہ کے حالات پر توجہ
ان ملاقاتوں کا محور حضرموت اور المہرہ کی تازہ صورت حال رہی۔ گذشتہ دنوں حضرموت میں حلف قبائل حضرموت اور ایلیٹ کی فورسز سمیت متعدد سکیورٹی یونٹس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب "عبوری" فورسز صوبے سے باہر سے آ کر ان مقامات پر اہلکار تعینات کیے جن کی ذمہ داری مقامی فورسز کے پاس تھی۔
حلف قبائل حضرموت نے المسيلہ کے تیل کے کنوؤں میں موجود تنصیبات کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کا اعلان کیا تاکہ مقامی وسائل کا تحفظ کیا جا سکے۔
دوسری جانب مقامی حکام اور عسکری قائدین نے خبردار کیا کہ یہ پیش رفت افراتفری کی صورتحال کو جنم دے سکتی ہے اور ملک کے اہم ترین تیل پیدا کرنے والے اس صوبے میں سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انہوں نے پرزور اپیل کی کہ تمام فریق اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور کسی ایسے قدم سے بچیں جو داخلی تنازع کا باعث بن سکتا ہو۔