سڈنی میں یہودی مذہبی تقریب پرحملےکےبعد اسرائیلی قیادت کا آسٹریلوی حکومت پر برہمی کااظہار

اسرائیلی وزیراعظم ، صدر اور وزیر خارجہ کی یہودی مذہبی تہوار کی تقریبات کے دوران 12 افراد کی ہلاکت کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے سڈنی میں یہودی مذہبی تقریب کے دوران فائرنگ کے واقعےمیں ہلاکتوں کے بعد کہا ہے کہ حملے سے قبل آسٹریلیا کی پالیسی معاندانہ تھی۔ اتوار کے روز انہوں نے اس واقعے کو نہایت گھناونا اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ آسٹریلیا میں جو کچھ ہوا وہ یہود مخالف رجحانات کا مقابلہ نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے خلاف جاری ایک جنگ کی حالت میں ہیں۔ اس کا مقابلہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ یہودی دشمنی کی مذمت کی جائے اور اس کے خلاف بھرپور جدوجہد کی جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے کہا کہ یہ حملہ متوقع تھا۔ اتوار کو جاری ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ جب دو برس تک آسٹریلیا کی سڑکوں پر اور خاص طور پر سڈنی میں یہودی مخالف مظاہرے جاری رہیں تو آخرکار جو کچھ ہوا وہ اسی کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے اس عرصے کے دوران بے شمار مرتبہ آسٹریلوی حکومت کو خبردار کیا تھا مگر افسوس کہ مناسب اقدامات نہیں کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب آسٹریلیا کی حکومت کو جاگ جانا چاہیے۔

ادھر اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ نے سڈنی میں یہودیوں پر ہونے والے اس حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس خونی واقعے کو ہولناک قرار دیا۔ انہوں نے آسٹریلوی حکام سے یہودی دشمنی کے خلاف کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔

12 افراد ہلاک

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اتوار کے روز سڈنی کے مشہور بونڈائی ساحل پر یہودی عید ہانوکا کی تقریبات کے دوران فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی اور ہلاک ہوئے۔

آسٹریلوی پولیس کے مطابق ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ایک اور حملہ آور مارا گیا۔ پولیس نے تصدیق کی کہ اس حملے میں 12 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ حملے کے وقت ایک ہزار سے زیادہ افراد وہاں موجود تھے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سنہ 2024ء میں 6 دسمبر کو بھی آسٹریلیا میں ایک یہودی عبادت گاہ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ملبورن کے علاقے ریبولنیا میں واقع آداس اسرائیل معبد پر تین نقاب پوش افراد نے کھڑکی توڑ کر حملہ کیا اور عمارت کے اندر آگ لگا دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں