سڈنی یہودی تقریب میں فائرنگ کے وقوعے کی ویڈیوز اور مشتبہ شخص کی تصویر سامنے آ گئیں۔ پولیس نے دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا اور عوام سے کہا کہ وہ علاقے سے دور رہیں۔ بعد ازاں پولیس نے تصدیق کی کہ سکیورٹی خطرہ ختم ہو گیا ہے۔
ایمرجنسی سروسز کے مطابق کم از کم 13 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ مقامی ذرائع کے مطابق تقریباً 10 افراد ہلاک ہوئے۔
#ÚLTIMAHORA ⚠️ Pánico en Bondi Beach, #Sydney, por un tiroteo que deja varios heridos.
— eSPAINews (@eSPAINews_) December 14, 2025
💥 Testigos relatan haber escuchado más de 50 disparos.
🚨🚔 La policía urge a la población evitar el área mientras despliega un gran operativo.
EN DESARROLLO...#Australia #Sídney pic.twitter.com/mvhWvwW3HU
دو افراد گرفتار اور مشتبہ شخص کی تصویر
ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ پولیس کے سائرن کی آواز اور گولیوں کی فائرنگ کے دوران بھاگتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق تقریب میں تقریباً 2000 افراد شریک تھے، اس دوران درجنوں گولیاں چلیں۔ کچھ ذرائع نے ایک شخص کی تصویر بھی جاری کی جو فائرنگ کے مشتبہ میں شامل ہے۔
وزیر اعظم انتھونی البانیزی نے عوام سے کہا کہ وہ نیو ساؤتھ ویلز پولیس کی جاری کردہ معلومات پر عمل کریں۔ بعد میں انہوں نے فائرنگ کے مناظر کو "خوفناک اور تکلیف دہ" قرار دیا۔