چین اور سعودی عرب علاقائی اور عالمی معاملات پر تعاون کو مضبوط بنانے پر متفق
چین اور سعودی عرب نے علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر رابطے اور ہم آہنگی کو بہتر بنانے پر اتفاق کیا اور بیجنگ نے شرقِ اوسط کی سفارت کاری میں ریاض کے کردار کی تعریف کی، یہ بات اتوار کو دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد بیانات سے معلوم ہوئی۔
چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی اس وقت شرقِ اوسط کے تین ممالک کے دورے پر ہیں جس کا آغاز متحدہ عرب امارات سے ہوا اور توقع ہے کہ اس کا اختتام اردن میں ہو گا۔ وانگ یی نے اتوار کو ریاض میں سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود سے ملاقات کی۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے شائع کردہ مشترکہ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ممالک کن امور پر ہم آہنگی کو مستحکم کریں گے تاہم سعودی عرب اور ایران کے لیے چین کی حمایت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو فروغ دیں اور ان میں اضافہ کریں۔
پیر کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے، "(چین) علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی و استحکام کے حصول کے لیے سعودی عرب کے قائدانہ کردار اور کوششوں کو سراہتا ہے۔"
بیان میں مسئلہ فلسطین کے "جامع اور منصفانہ حل" اور فلسطینیوں کے لیے ایک آزاد ریاست کے قیام کی غرض سے دونوں ممالک کی حمایت کا اعادہ بھی کیا گیا۔
پیر کو چینی وزارتِ خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں وانگ نے اپنے سعودی ہم منصب کو بتایا کہ چین نے ہمیشہ سعودی عرب کو 'شرقِ اوسط کی سفارت کاری کے لیے ایک ترجیح' اور عالمی سفارت کاری میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر اہمیت دی ہے۔
انہوں نے توانائی اور سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ نئی توانائی اور سبز انقلاب کے شعبوں میں مزید تعاون کی بھی حوصلہ افزائی کی۔
مشترکہ بیان کے مطابق ممالک نے دونوں اطراف سے سفارتی اور خصوصی پاسپورٹ کے حامل افراد کے ویزوں سے استثنیٰ پر اتفاق کیا ہے۔