ٹرمپ کا BBC پر ہتکِ عزت کا الزام ... 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا ہے۔ مقدمے میں ادارے پر گمراہ کن ویڈیو ایڈیٹنگ کے ذریعے ہتک عزت کا الزام لگاتے ہوئے کم از کم 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

فلوریڈا میں پیر کے روز ٹرمپ کی طرف سے دائر کیے گئے مقدمے میں "ہتک عزت اور دھوکہ دہی" اور "غیر منصفانہ تجارتی طریقوں" سے متعلق قانون کی خلاف ورزی کے ہر الزام کے لیے "کم از کم 5 ارب ڈالر ہرجانہ" طلب کیا گیا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق بی بی سی نے انھیں وہ بات کہتے ہوئے دکھایا جو انھوں نے نہیں کہی تھی۔

بی بی سی نے ٹرمپ کی ایک تقریری کی ایڈیٹنگ پر معذرت کی تھی، جس سے ایک دستاویزی فلم میں یہ تاثر ملا تھا کہ انہوں نے 6 جنوری 2021 کو اپنے حامیوں کی کانگریس پر چڑھائی سے قبل انھیں "تشدد پر اکسایا" تھا۔

چند ہفتے قبل ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ بی بی سی پر مقدمہ کرنے اور "ایک ارب سے پانچ ارب ڈالر کے درمیان" ہرجانہ طلب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

برطانوی نیٹ ورک اس وقت سے پریشانی کا شکار ہے جب سے اس کے مشہور خبری پروگرام "پینوراما" کا ترمیم شدہ کلپ جو 2024 کے صدارتی انتخابات سے پہلے دوبارہ نشر ہوا، سامنے آیا ہے۔

بی بی سی کے چیئرمین سمیر شاہ نے وائٹ ہاؤس کو ایک "ذاتی خط" بھیجا تھا جس میں ادارے کی معذرت شامل تھی، لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ پہل 79 سالہ صدر کے غصے کو کم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

ری پبلکن کے وکیل کے ترجمان نے پیر کو خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا "بی بی سی، جو پہلے قابل احترام تھا اور اب ساکھ کھو چکا ہے، اس نے جان بوجھ کر بد نیتی کے ساتھ اور دھوکہ دہی کے انداز میں صدر ٹرمپ کی تقریر کو تبدیل کر کے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا، جس کا واضح مقصد 2024 کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کرنا تھا۔"

ترجمان نے مزید کہا "بی بی سی کی ایک طویل تاریخ رہی ہے کہ وہ اپنے بائیں بازو کے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے صدر ٹرمپ کی کوریج میں اپنے سامعین کو گمراہ کرتا رہا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں