سڈنی حملے کے ہیرو احمد الاحمد کی سرجری ہوگی: والد کا انکشاف

والد کا کہنا ہے بیٹے کے اقدام نے شامیوں کے بارے میں تاثر بدل دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سڈنی میں بونڈائی بیچ پر دہشت گردانہ حملے کے دوران ایک حملہ آور سے بندوق چھیننے کی کوشش کے دوران زخمی ہونے والےشامی نژادہیرو احمد الاحمد کے والد نے چینل العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ ان کے بیٹے کو حملے کے دوران لگنے والی گولیوں کو نکالنے کے لیے سرجری سے گزرنا پڑے گا۔

احمد الاحمد کے والد نے کہا کہ ان کے بیٹے کے جرات مندانہ اقدام نے شامیوں کے بارے میں رائے اور تاثر کو بدل دیا ہے۔

آسٹریلوی پولیس نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ سڈنی میں فائرنگ کے واقعے کو ایک باپ اور بیٹے نے انجام دیا جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 15 ہو گئی۔ یہ واقعہ حالیہ برسوں میں ملک کے سب سے خونریز حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

منگل کے روز اس سے قبل آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی ألبانيزي نے شامی شہر ادلب سے تعلق رکھنے والے آسٹریلوی شہری احمد الاحمد کی ہسپتال میں عیادت کی اور سڈنی حملے کے دوران زخمی ہونے کے بعد ان کی صحت سے متعلق دریافت کیا۔

وزیر اعظم نے ملاقات کے دوران احمد الاحمد سے کہا کہ تم ایک ہیرو ہو تم نے دوسروں کی حفاظت کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالی۔ انہوں نے احمد الاحمد کی جرات اور انسانی رویے کو سراہا جسے آسٹریلیا میں وسیع پیمانے پر پذیرائی ملی۔

آسٹریلوی وزیر اعظم نے بتایا کہ اتوار کی شام ایک شخص اور اس کے بیٹے کی جانب سے کی گئی اجتماعی فائرنگ بہ ظاہر داعش کی نظریاتی سوچ سے متاثر تھی۔

دوسری جانب آسٹریلوی پولیس نے کہا کہ بونڈائی بیچ پر حملے کے مشتبہ ملزمان یعنی باپ اور بیٹے کی استعمال کردہ گاڑی سے داعش کے دو جھنڈے اور بم برآمد ہوئے ہیں۔

پولیس نے یہ بھی بتایا کہ بونڈائی حملے کے دونوں ملزمان نے واردات سے قبل فلپائن کا سفر کیا تھا اور اس دورے کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں