اسرائیل گیس معاہدہ 'سیاسی' نہیں 'تجارتی' ہے: مصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مصری حکام نے جمعرات کو اسرائیل سے قدرتی گیس کی درآمد کے ایک بڑے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور یہ ملک کے تزویری مفاد کے لیے کیا گیا ہے۔

ایک سرکاری میڈیا دفتر کے مطابق مصر کی سٹیٹ انفارمیشن سروس کے سربراہ ضیاء رشوان نے کہا، "یہ معاہدہ خالصتاً ایک تجارتی لین دین ہے جو صرف اقتصادی اور سرمایہ کاری معاملات کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور اس میں کوئی بھی سیاسی جہت یا تفہیم شامل نہیں ہے۔"

رشوان نے ایک بیان میں مزید کہا، "یہ معاہدہ مصر کے لیے ایک واضح تزویری مفاد کا کام کرتا ہے کہ وہ مشرقی بحیرۂ روم میں گیس کی تجارت کے واحد علاقائی مرکز کے طور پر اپنی پوزیشن کو مضبوط بنائے۔"

غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات معاہدے کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات کے باعث ناکام ہو گئے اور اسی دوران یہ اعلان سامنے آیا۔

رشوان نے کہا، "اعلان کے وقت سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہو جاتی کہ یہ معاہدہ تجارتی مذاکرات کا نتیجہ ہے جو مارکیٹ کے اصولوں کے مطابق قبل ازیں ختم ہو گئے۔"

اگست میں اس معاہدے کا اعلان کرنے والی اسرائیلی فرم نیو میڈ انرجی کے مطابق معاہدے کے تحت اسرائیل مصر کو ملنے والی گیس کی کل مقدار 130 بلین کیوبک میٹر تک بڑھا دے گا۔

مصر کو حالیہ برسوں میں توانائی کی فراہمی اور اپنی ملکی ضروریات پورا کرنے کا مسئلہ درپیش رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں