ایشیا کے ملک میں ہٹلر کے انسانیت سوز تجربات
نازیوں نے تبت کے باشندوں پر تحقیق کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اپنی نسل کی برتری کے دعووں کو جواز فراہم کر سکیں
متعدد مواقع پر جرمن پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے میں کامیابی کے بعد براہِ راست یا بالواسطہ طور پر نازی پارٹی نے جرمن پارلیمنٹ یعنی رائخسٹگ (Reichstag) میں اکثریت حاصل کر لی، جس کے نتیجے میں صدر پول فون ہنڈنبرگ (Paul von Hindenburg) کو مجبور ہونا پڑا کہ وہ 30 جنوری 1933 کو ایڈولف ہٹلر کو جرمنی کا چانسلر مقرر کریں۔
جب پول فون ہنڈنبرگ کا انتقال اگست 1934 میں ہوا، تو ایڈولف ہٹلر نے چانسلر اور صدر کے اختیارات کو یکجا کر کے مطلق العنان اقتدار اپنے قبضے میں لے لیا اور اپنے مخالفین کو جیلوں میں ڈالنا شروع کر دیا۔
نازی دور حکومت کے دوران وہ نسلی اور نسل پرستانہ نظریات پر بھی زور دینے لگے اور جرمنوں کی برتری کے مفروضے قائم کرنے کی کوشش کی۔ان دعوؤں کی تصدیق کے لیے نازیوں نے ایک عجیب مشن کے ساتھ سائنسی ٹیم کو تبت (Tibet) بھیجا۔
افریقہ میں تجربات
استعماریت کے دور میں جرمن سائنس دانوں نے اپنی جنوبی مغربی افریقہ کی نوآبادیات یعنی موجودہ نامیبیا، ٹوگو اور کیمرون میں عجیب و غریب تجربات اور مطالعات کیں۔ اپنے قبضے کو جواز دینے کے لیے جرمنوں نے افریقی انسان کو پسماندہ اور ابتدائی قرار دیا۔
انہوں نے مطالعے میں دماغ، کھوپڑی، ناک کے سائز اور جلد کے رنگ کی پیمائش شامل کی۔جیسا کہ دیگر یورپی طاقتیں اس وقت کرتی تھیں، جرمنوں نے اپنے نوآبادیاتی باشندوں کو جرمنی منتقل کیا تاکہ ان پر مزید تحقیق کی جا سکے اور انہیں باقی جرمن عوام کے سامنے پیش کیا جا سکے، جسے اس وقت انسانی چڑیا گھر کہا گیا۔
اگرچہ پہلی عالمی جنگ کے بعد جرمن استعمار کا خاتمہ ہو گیا، لیکن نازیوں کے اقتدار کے بعد برلن نے مشابہہ مشنز شروع کیے ،جو اس بار وسطی ایشیا کی طرف مرکوز تھے۔نازیوں نے آرین نسل کی برتری پر یقین رکھا، جس کے مطابق جرمن اسی نسل سے نکلے۔ انہوں نے وسطی ایشیا کی قبائل میں اس نسل کی اصل تلاش کرنے کی کوشش کی۔اسی تناظر میں نازیوں نے ایک نسلی چارٹ تیار کیا جس میں انسانوں کو نسلوں میں تقسیم کیا اور بعض قوموں کو نیچی نسل کے زمرے میں رکھا۔
تبت کا انتخاب
نازیوں نے Ahnenerbe (انسٹی ٹیوٹ آف ہیرٹیج) کی نگرانی میں تبت کے لیے ایک سائنسی مہم کا اعلان کیا، جسے ہینرش ہملر نے سپورٹ کیا۔ تبت کو وسطی ایشیا میں ایک الگ تھلگ اور پاکیزہ مقام سمجھا جاتا تھا اور یہاں کی مقامی کہانیوں اور شخصیات میں دلچسپی تھی۔جرمن مفکرین کے مطابق تبت کے باشندے شکل اور جسمانی حجم میں ایشیائی اور یورپی انسان کے درمیان تھے۔
جرمن مشن برائے تبت
مئی 1938 سے اگست 1939 تک جرمن حیوانات کے ماہر ارنست شافر (Ernst Schäfer) نے تبت کے لیے سائنسی مشن کی قیادت کی۔ ان کے ساتھ حیاتیات، انسانیات اور جغرافیہ کے ماہرین تھے۔ وہ بھارت اور سکیّم کے راستے تبت کی راجدھانی لاسہ (Lhasa) پہنچے۔تبت میں جرمن مشن کو مقامی لوگوں نے خوش آمدید کہا اور وہ مقامی باشندوں کے درمیان رہتے ہوئے اپنی عجیب و غریب تحقیقات جاری رکھے۔
جرمنوں نے تبت کے باشندوں کی کھوپڑی کی لمبائی، چوڑائی اور شکل کی پیمائش کی۔ مطالعے ناک، آنکھوں، قد اور جسم کے سائز تک پھیل گئیں۔ مشن کے دوران مقامی لوگوں کی تصاویر لیں گئیں اور ان کے خون اور فنگر پرنٹس جمع کیے گئے تاکہ انہیں نسلی جدول میں درج کیا جا سکے۔بعد میں جرمنوں نے تبت کے لوگوں کی زندگی، خوراک اور عادات پر تحقیق کی۔
واپس آتے وقت انہوں نے مقامی حکام کی جانب سے بھیجے گئے تحائف ہٹلر کے لیے ساتھ لے گئے۔حالانکہ مشن سے کوئی سائنسی نتائج نہیں نکلے، نازیوں نے اسے کامیاب قرار دیا اور اس کے تحقیقی مواد میں دھوکہ دہی اور ترمیم کر کے آرین نسل کی برتری کو جواز فراہم کیا۔اس تحقیق کو ہٹلر کی منصوبہ بندی اور نظریات کے لیے پروپیگنڈا کے طور پر بھی استعمال کیا گیا۔