ترکیہ کی پارلیمنٹ میں ہاتھا پائی، اجلاس دو مرتبہ معطل
بجٹ پر بحث کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان آمنے سامنے، ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی
ترکیہ کی پارلیمنٹ میں سنہ 2026ء کے بجٹ پر ووٹنگ سے قبل ایوان کے اندر شدید جھگڑا پھوٹ پڑا جہاں ارکانِ پارلیمنٹ کے درمیان اختلافات بڑھتے بڑھتے ہاتھا پائی میں تبدیل ہو گئے۔ صورتحال کے پیش نظر اسپیکر نورمان کورتولموش کو اجلاس معطل کرنا پڑا۔
یہ جھگڑا جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی ’آق‘ اور ری پبلکن پیپلز پارٹی کے ارکان کے درمیان وقفے تک جاری رہا جس کے نتیجے میں ایوان کے اندر موجود سامان کو بھی نقصان پہنچا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ری پبلکن پیپلز پارٹی کے پارلیمانی گروپ کے نائب سربراہ گوکان گونایدین نے خطاب کیا جس میں انہوں نے کہا کہ دو ماہ تک جاری رہنے والی بجٹ بحث اختتام کو پہنچ چکی ہے۔
مرکزی اپوزیشن جماعت سے تعلق رکھنے والے گوکان گونایدین نے جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے پارلیمانی گروپ کے نائب سربراہ اور صنعت تجارت توانائی قدرتی وسائل، اطلاعات اور ٹیکنالوجی کمیٹی کے سربراہ نیز بورصہ سے رکن پارلیمنٹ مصطفی فارانک کی تقاریر پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان خطابات میں پنشنرز، چھوٹے کاروباری افراد اور کم از کم اجرت پر کام کرنے والوں کے مسائل کو نظر انداز کیا گیا۔
Meclis ringe döndü:
— Hilal Köylü (@hilalkoylu) December 21, 2025
Bütçe görüşmeleri sırasında CHP’li ve AK Partili vekiller yumruklu kavga etti.
Kavga yaklaşık 10 dakika sürdü.
pic.twitter.com/7mrriEG7MM
گونایدین نے واحد جماعت کے دور سے متعلق تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ دور مصطفی کمال اتاترک کی نمائندگی کرتا ہے جسے وہ اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دور میں جلال بایار وزیر اعظم رہے جبکہ عدنان مندریس پارلیمنٹ کے رکن تھے۔ ان کے مطابق ان حقائق سے انکار تاریخی شعور کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
اس کے جواب میں حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے پارلیمانی گروپ کے سربراہ عبد اللہ گولر نے کہا کہ ری پبلکن پیپلز پارٹی کی بنیاد مصطفی کمال اتاترک نے رکھی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اتاترک کے بعد ایک اور نمایاں شخصیت عصمت انونو تھے جنہیں انہوں نے دائمی رہنما قرار دیا۔ گولر کے مطابق اینونو نے اتاترک کی وفات کے کچھ ہی عرصے بعد کرنسی نوٹوں سے ان کی تصویر ہٹانے کا حکم دیا تھا۔
عبد اللہ گولر نے سنہ 1945ء کے ایک تاریخی واقعے کا بھی حوالہ دیا جس میں بورالتان پل پر 195 آذربائیجانی پناہ گزینوں کو سوویت افواج کے حوالے کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کا نامعلوم انجام تاریخی ریکارڈ میں محفوظ ہے۔
بعد ازاں اجلاس کے دوران جب رکن پارلیمنٹ مصطفی فارانک نے ایسا انداز اختیار کیا جسے اشتعال انگیز سمجھا گیا تو اختلافات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے اور ایوان میں دوبارہ ہاتھا پائی شروع ہو گئی۔ اس صورتحال پر اسپیکر کو اجلاس ایک مرتبہ پھر معطل کرنا پڑا۔
-
غزہ میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کے باعث جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کا آغاز خطرے میں ہے: ترکیہ
ریاض – العربیہ ڈاٹ نیٹ
مشرق وسطی -
البوکمال میں "سام-7" طیارہ شکن میزائل برآمد کر لیے : شامی وزارت داخلہ
یہ کھیپ اسمگلنگ کے لیے تیار کی گئی تھی
مشرق وسطی -
ایران کی متعدد شہروں میں میزائل مشقیں، میزائل پروگرام پر کوئی مذاکرات نہیں:تہران
ایرانی سرکاری میڈیا نے پیر کے روز ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران نے متعدد ...
بين الاقوامى