یوکرین کے حوالے سے ٹرمپ اور پوتین کے درمیان دوسری مثبت فون کال
امریکی صدر نے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں اپنے روسی ہم منصب سے دو بار بات کی
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتین کے درمیان یوکرین کے معاملے پر ایک مثبت ٹیلیفونک گفتگو سے آگاہ کیا ہے۔ کیرولین لیویٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ ایکس ‘‘ پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ پر لکھا کہ ٹرمپ نے یوکرین کے بارے میں پوتین کے ساتھ ایک مثبت فون کال مکمل کر لی ہے۔ دوسری جانب کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ پوتین اور ٹرمپ نے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کیف میں تصفیہ کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔
یہ 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں دونوں صدور کے درمیان دوسری فون کال ہے۔ امریکی صدر نے اتوار کو ریاست فلوریڈا میں یوکرینی صدر زیلنسکی سے ملاقات سے قبل اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ بہت اچھی اور نتیجہ خیز فون کال کرنے کا بیان دیا تھا۔ ٹرمپ نے اتوار کو ریاست فلوریڈا کے مارا لاگو ریزورٹ میں ولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کی تھی۔ ٹرمپ نے کہا زیلنسکی کے ساتھ ملاقات اچھی رہی، مذاکرات روس اور یوکرین کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کے بہت قریب ہیں۔ اس کے برعکس یوکرینی صدر زیلنسکی نے اپنے ملک کی امن کے لیے آمادگی کا اعلان کیا۔
50 سال کے لیے ضمانتیں طلب
زیلنسکی نے پیر کے روز ایک آن لائن پریس کانفرنس کے دوران وضاحت کی کہ امن کے فریم ورک اور روسی جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کردہ مسودے میں یوکرین کے لیے 15 سال کی مدت تک امریکی سکیورٹی ضمانتیں شامل تھیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے امریکی صدر سے 50 سال تک کی ضمانتیں طلب کی ہیں۔ زیلنسکی نے کہا کہ میں واقعی چاہتا ہوں کہ یہ ضمانتیں طویل مدت کے لیے ہوں اور میں نے ان سے کہا کہ ہم 30، 40 یا 50 سال کی تجویز پر غور کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ان کے امریکی ہم منصب نے اس تجویز پر غور کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
زیلنسکی نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے کو یوکرین میں ریفرنڈم کے لیے پیش کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے ریفرنڈم کے انعقاد کے لیے کم از کم 60 دن کی جنگ بندی کی ضرورت ہوگی۔ یوکرینی صدر نے زور دیا کہ جنگ ختم کرنے کے کسی بھی منصوبے پر کیف، ماسکو، امریکہ اور یورپیوں کے دستخط ہونے چاہئیں۔