بنگلہ دیشی نوجوانوں کی حالیہ مزاحمتی تحریک کے بعد وجود میں آنے والی جماعت کو اندرونی سطح پر ایک بغاوت کا سامنا ہے کہ اس کی لیڈرشپ نے عثمان ہادی کے بہیمانہ قتل کے بعد ضروری خیال کیا ہے کہ وہ کسی پرانی سیاسی و مذہبی جماعت کے ساتھ جڑ جائے۔ تاکہ بھارتی سپانسرڈ دہشت گردانہ یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی قوت کو زیادہ مستحکم کر سکے۔
تاہم نوجوانوں کی اس جماعت کے اس فیصلے کے بعد بعض سطحوں پر ردعمل بھی سامنے آیا ہے اور ردعمل ظاہر کرنے والا طبقہ یہ سمجھ رہا ہے کہ اس سے ان کا مستقبل خطرات میں گھر سکتا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق پارٹی 'این سی پی' نیشنل سٹیزین پارٹی میں ایسے 30 رہنما سامنے آئے ہیں جو 'این سی پی' کے جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کے خلاف ہیں۔ انہوں نے اپنی اس ناراضگی کا اظہار اتوار کے روز استعفوں کی صورت میں کیا ہے۔
ملک میں یوتھ کے ذریعے آنے والی پچھلے سال کی تبدیلی کی حمایت نہ کرنے والا میڈیا بھی نیشنل سٹیزین پارٹی میں شروع ہونے والی اس لہر کو آئندہ دنوں بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے ساتھ نوجوانوں کے اس اتحاد کو بھارت کے دانشوروں اور سرکار نے بھی اپنے لیے ایک بڑے اور نئے چیلنج کے طور پر دیکھنا شروع کیا ہے۔
یاد رہے بنگلہ دیش میں اگلے عام انتخابات 12 فروری کو ہونے جا رہے ہیں۔ جس سے قبل 'این سی پی' اور جماعت اسلامی کے درمیان اتحاد کا حالیہ اعلان ایک غیر معمولی پیش رفت کہی جا سکتی ہے۔
اس سے قبل مکتبہ دیو بند سے تعلق رکھنے والی مذہبی جماعت نے بھی ایک بڑے اتحاد کا اعلان کیا تھا تاکہ جماعت اسلامی اور 'این سی پی' کا راستہ روکنے کے لیے قوم پرستی کے بھارتی حمایت یافتہ ورژن کو متحد کیا جا سکے۔
اس اتحاد کو کسی بڑے ابلاغی چیلنج کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ تاہم اب جماعت اسلامی کے ساتھ نوجوانوں کے اتحاد کے بعد انتخابی مہم ایک نئی ابلاغی و پروپیگنڈا کی زد میں آسکتی ہے۔
نیشنل سٹیزین پارٹی اپنے آپ کو نوجوانوں کی نمائندہ جماعت کے طور پر پیش کرتی ہے اور اس میں طلبہ کی روایتی قوت زیادہ متحرک ہے۔ نوجوانوں کی اسی تحریک نے 5 اگست 2024 کو حسینہ واجد کی حکومت کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔
بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ 'این سی پی' کے اتحادی عمل کے نتیجے میں الیکشن کے موقع پر اسے وہ تجرںہ رہے گا جو براہ راست اس نئی جماعت کے پاس پہلے موجود نہیں ہے۔ تاہم بعض دوسرے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس موقع کی دستیابی کے باوجود نئی قائم کردہ جماعت کے اندر اتحاد و یکجہتی متاثر ہو سکتی ہے۔
خیال رہے 'این سی پی' کا قیام اسی سال عمل میں لایا گیا تھا اور فروری 2026 میں ہونے والے عام انتخابات اس کا پہلا تجربہ ہوں گے۔ جبکہ اس نوجوانوں کی جماعت کو کالعدم قرار دی جا چکی حسینہ واجد کی عوامی لیگ کے کارکنوں کے علاوہ بھارتی سرمایے اور پراپیگنڈے کے بڑے چیلنج سے بھی نمٹنا ہے۔ جیسا کہ بھارت پر اب بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے بعض 'این سی پی' لیڈروں کو قتل کرانے میں بنیادی اور اہم ترین کردار ادا کیا۔
حسینہ واجد کی حکومت جب سے گئی ہے بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں غیر معمولی رخنہ آگیا ہے اور بھارت کی کوشش ہے کہ اسے بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کا متبادل جلد دستیاب ہوجائے۔
اس صورتحال میں نیشنل سٹیزین پارٹی کی لیڈرشپ نے چیلنج کو سمجھتے ہوئے انتخابی عمل سے محض ڈیڑھ ماہ قبل جماعت اسلامی اور لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے ساتھ اتحاد کر کے الیکشن کی طرف بڑھنے کا پچھلے دنوں ہی فیصلہ کیا ہے۔