تین مرتبہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم رہنے والی خالدہ ضیا انتقال کر گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا 80 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے سوگ کا اعلان کر دیا۔

خالدہ ضیا کئی روز سے وینٹی لیٹر پر تھیں۔ جگر، دل اور ذیابیطس جیسے سنگین بیماریوں کا طویل عرصے سے مقابلہ کر رہی تھیں۔ ان کے بیٹے طارق رحمان چند روز قبل ہی 17 سال بعد بنگلہ دیش پہنچے تھے۔ انھیں پارٹی کا قائم مقام چیئرمین بنایا گیا ہے۔ اپنی والدہ کی وفات کے بعد اب وہ پارٹی کے سربراہ اور جیت کی صورت میں ملک کے اگلے وزیر اعظم ہو سکتے ہیں ۔

خالدہ ضیا کی سیاسی زندگی انتہائی ہنگامہ خیز رہی۔ اپنے خاوند کے قتل کے بعد خالدہ ضیا نے ان کی سیاسی وراثت کو سنبھالا اور بی این پی کو بنگلہ دیش کی مقبول ترین جماعت بنایا ۔ وہ بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں۔ ان کا پہلا دور 1991 سے 1996 تک تھا جبکہ دوسرا دور 2001 سے 2006 تک تھا۔

اپنی سیاسی حریف حسینہ واجد کی حکومت میں وہ وہ جیل اور نظر بندی کی زندگی گزارتی رییں۔ گذشتہ برس ملک میں تبدیلی کے بعد وہ علاج کیلۓ بیرون ملک گئیں ملک واپسی پر شدید علالت کی وجہ سے سیاسی سرگرمیوں میں شامل نہیں ہو سکی۔ بنگلہ دیش میں نوجوانوں کی تحریک کے بعد شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا دھڑن تختہ ہوا تو خالدہ ضیا جیل سے واپس آئیں۔ لیکن ان کی صحت نے سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہ دی۔

مختصر سوانحی خاکہ

15 اگست 1945 کو غیر منقسم ہندوستان کے صوبہ بنگال میں پیدا ہونے والی خالدہ ضیا، جن کا خاندانی نام ’پُتل‘ تھا، نے اپنی ابتدائی زندگی سیاست سے کوسوں دور گزاری۔ 1960 میں ان کی شادی پاکستان آرمی کے کیپٹن ضیاء الرحمٰن سے ہوئی، جو بعد ازاں بنگلہ دیش کے صدر بنے۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے خالدہ ضیا کی وفات پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’بیگم ضیا پاکستان کی دوست تھیں‘
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے خالدہ ضیا کی وفات پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’بیگم ضیا پاکستان کی دوست تھیں‘

1971 کی جنگ اور اس کے بعد کے ہنگامہ خیز دور میں خالدہ ضیا کی حیثیت محض ایک فوجی افسر کی بیوی اور پھر خاتونِ اول کی تھی، جو زیادہ تر وقت گھر اور بچوں کی تربیت تک محدود رہتی تھیں۔ اس وقت کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ شرمیلی اور کم گو خاتون، جو تقریبات میں بھی خاموش رہتی تھیں، ایک دن بنگلہ دیش کی سڑکوں پر آمریت کے خلاف نعرے لگاتی نظر آئیں گی۔

تین ماہ بعد، خالدہ ضیا کے شوہر، ضیا الرحمان، اس وقت کے نائب آرمی چیف، نے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ وہ 1977 میں خود صدر بنے اور 1981 میں مارے گئے تھے۔ اس وقت دو بچوں کی ماں 35 سالہ خالدہ ضیا کو بی این پی کی قیادت وراثت میں ملی۔ ابتدائی طور پر سیاسی نوخیز ہونے کے باوجود خالدہ ضیا ایک مضبوط حریف ثابت ہوئیں اور فوجی آمر حسین محمد ارشاد کے خلاف ریلی نکالی۔

بعد ازاں انہوں نے 1990 میں انہیں اقتدار سے ہٹانے کے لیے شیخ حسینہ کے ساتھ ہاتھ ملایا۔کئی دہائیوں سے بنگلہ دیش کی سیاست کا چلن خالدہ ضیا اور شیخ حسینہ واجد کے درمیان تلخ دشمنی سے عبارت رہا، ایک جھگڑا جسے ’بیٹل آف دی بیگم‘ کہا جاتا ہے، جو ایک طاقتور خاتون کے لیے جنوبی ایشیا میں ایک اعزازی لقب ہے۔

دونوں خواتین آنے والی ڈیڑھ دہائی تک باری باری اقتدار میں رہیں۔ یہ نفرت 1975 میں شروع ہوئی جب شیخ حسینہ کے والد، بنگلہ دیش آزادی کے رہنما شیخ مجیب الرحمان کو ان کے خاندان کے بیشتر افراد کے ساتھ، ایک بغاوت میں قتل کر دیا گیا تھا۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے خالدہ ضیا کی وفات پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’بیگم ضیا پاکستان کی دوست تھیں۔‘ شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت پاکستان غم کی اس گھڑی میں بنگلہ دیش کی عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے چند ماہ قبل بنگلہ دیش کے دورے کے موقع پر خالدہ ضیا سے ملاقات کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں