کینیڈا کے ٹرانسپورٹ ریگولیٹر نے ایئر انڈیا سے کہا ہے کہ وہ ایک پائلٹ کی شراب کے نشے میں ڈیوٹی پر آمد اور مے نوشی کے دو ٹیسٹوں میں ناکام ہونے کے واقعے کی تحقیقات کرے، اس معاملے سے واقف ایک شخص نے بتایا۔
مذکورہ شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پائلٹ کو طیارے سے نکلنے کو کہا گیا جس کے بعد کینیڈین پولیس نے وینکوور انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ٹیسٹ کیے۔
نیز کہا کہ ٹرانسپورٹ کینیڈا نے ایئر انڈیا کو ارسال کردہ خط میں اس واقعے کو ایک "سنگین معاملہ" قرار دیا اور حکام کی جانب سے کارروائی کا امکان ہے۔
ٹرانسپورٹ کینیڈا نے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
ایک بیان میں ایئر انڈیا نے تصدیق کی کہ 23 دسمبر کو وینکوور سے دہلی جانے والی پرواز کو اس واقعے کی وجہ سے آخری لمحات میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا اور پرواز چلانے کے لیے ایک متبادل پائلٹ لایا گیا تھا۔
"پائلٹ کو تفتیشی عمل کے دوران معمول کی ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ایئر انڈیا قابلِ اطلاق قواعد و ضوابط کی کسی بھی خلاف ورزی پر عدم برداشت کی پالیسی برقرار رکھتا ہے۔ تفتیش کے نتائج تک کسی بھی تصدیق شدہ خلاف ورزی پر کمپنی پالیسی کے مطابق سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی،" ایئر انڈیا نے کہا۔
معاملے سے واقف شخص نے بتایا کہ ٹرانسپورٹ کینیڈا کے اہلکار اجیت اومن کے خط میں ایئر انڈیا سے کہا گیا ہے کہ وہ 26 جنوری تک تحقیقات کے نتائج اور ان اقدامات کی تفصیلات فراہم کرے جو مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے اٹھائے جائیں۔
بارہ جون کو بوئنگ ڈریم لائنر کے حادثے میں 260 افراد کی موت کے بعد سے بھارت کو سخت جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔ بھارت کے ایوی ایشن ریگولیٹر نے مذکورہ ایئرلائن میں متعدد حفاظتی خامیوں سے آگاہ کیا ہے جو 2022 تک حکومت کی ملکیت تھی۔
ٹاٹا گروپ اور سنگاپور ایئرلائنز کی ملکیتی ایئر انڈیا کے پائلٹ بھی اس جانچ کی زد میں آئے ہیں۔ اس ہفتے بھارت کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) نے ایئر انڈیا کے چار ہوابازوں کو انتباہی نوٹس بھیجے جن میں ادارے کے قواعد کی تعمیل سے متعلق "سنگین حفاظتی خدشات" اور فلائٹ عملے کے فیصلہ سازی کے معاملات کی نشان دہی کی گئی۔
رائٹرز کے ملاحظہ کردہ 29 دسمبر کے انتباہی نوٹس کے مطابق ڈی جی سی اے نے کہا کہ ہوابازوں نے گذشتہ سال ایک ہوائی جہاز چلانا منظور کر لیا حالانکہ انہیں "بار بار کی خامیوں" اور اس کے "نظام میں موجود خرابیوں" کے بارے میں پیشگی علم تھا۔ Flightradar24 کے مطابق یہ طیارہ بوئنگ 787 ہے جو طویل فاصلے کی پروازوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔