یمنی حکومت اور "جنوبی عبوری کونسل" کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان صدارتی مشیر ثابت الاحمدی نے یمن کے حوالے سے سعودی عرب کے حمایتی مؤقف کی تعریف کی۔
الاحمدی نے العربیہ/الحدث کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ مملکت یمن کے اولین حامیوں میں سے ایک ہے۔
متحدہ عرب امارات سے اختلاف
انہوں نے مزید کہا: 'ہماری متحدہ عرب امارات کے ساتھ سیاسی اور ثقافتی طور پر مشترکہ خصوصیات ہیں لیکن اختلاف صرف جنوبی معاملے تک محدود ہے۔'
حکومت 'تناؤ کم کرنے اور خونریزی روکنے کے لیے کوشاں ہے،' اس بات کا مشاہدہ کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ عدن ایئرپورٹ پر سفر دوبارہ شروع ہو جائے گا۔
یمن کے وزیرِ اطلاعات معمر الإريانی نے جمعرات کو کہا، 'جنوبی عبوری کونسل کی افواج کی مسلسل مداخلت کا مطلب ایسے اقدامات ہوں گے جو ہم پسند نہیں کرتے۔' انہوں نے وضاحت کی کہ حکومت 'وادی حضرموت کی طرف مسلسل متحرک ہونے سے متعلق اطلاعات کی سنجیدگی سے نگرانی کر رہی ہے۔'
جواب میں گورنر حضرموت سالم الخنبشی نے نشاندہی کی، عبوری کونسل کشیدگی میں کمی اور امن کوششوں کے مطالبات کا جواب نہیں دیتی بلکہ اس کی افواج متحرک ہوتی رہتی ہیں۔
دریں اثناء یمنی صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین رشاد العلیمی نے حالیہ پیش رفت میں متحدہ عرب امارات کے کردار پر بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ یمن متحدہ عرب امارات کے سابقہ کردار اور ابتدائی مراحل میں اس کے تعاون سے انکار نہیں کرتا۔
المستشار بالرئاسة اليمنية ثابت الأحمدي: السعودية من أوائل الداعمين لليمن.. ولدينا مشتركات سياسية وثقافية مع الإمارات لكن الاختلاف ينحصر في ملف الجنوب
— العربية (@AlArabiya) January 2, 2026
#قناة_العربية #خارج_الصندوق pic.twitter.com/lIDEVjlEYR
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ مرحلے میں وضاحت اور ایک ایسے دھڑے کی حمایت سے فاصلہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے جس نے اتفاقِ رائے کے طریقہ کار سے انحراف کیا ہے۔ انہوں نے اس انتباہ کی تجدید کی کہ مسلح گروہوں کا متوازی حکام میں تبدیل ہونا ایک ایسے خطرے کی نمائندگی کرتا ہے جس پر بعد میں قابو نہیں پایا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ یمن آج ایک دوراہے پر کھڑا ہے: یا تو ایک فیصلے کے ساتھ ایک ریاست یا کھلی افراتفری جو اس کی سرحدوں پر نہیں رکے گی۔
متحدہ عرب امارات کی موجودگی ختم کرنا
العلیمی نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ یمن میں متحدہ عرب امارات کی موجودگی ختم کرنے کے فیصلے کا مطلب دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات منقطع یا ان سے انکار کرنا نہیں ہے۔ یہ اقدام اتحاد کا راستہ درست کرنے کے عمل میں آتا ہے اور یوں مشترکہ مقاصد پورےکرتا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی وزارتِ خارجہ نے چند روز قبل متحدہ عرب امارات کے اقدامات پر افسوس کا اظہار کیا تھا جو مملکت کی جنوبی سرحدوں پر حضرموت اور المحرہ گورنری میں فوجی کارروائی کرنے کے لیے جنوبی عبوری کونسل کی افواج پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے تھے اور یہ مملکت کے ساتھ ساتھ یمن اور خطے کی قومی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
المستشار بالرئاسة اليمنية ثابت الأحمدي لـ"العربية": حركة الملاحة في مطار #عدن ستعود.. وحريصون على التهدئة ومنع إراقة الدماء#اليمن #خارج_الصندوق #قناة_العربية pic.twitter.com/OgoVYjbiUT
— العربية (@AlArabiya) January 2, 2026
جنوب میں نئے علاقوں پر عبوری کونسل کے کنٹرول کے بعد ریاض نے بھی ابوظہبی پر زور دیا کہ وہ یمن سے اپنی فوجیں نکال لے۔
نتیجتاً متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا کہ اس نے صورتِ حال کا جائزہ لینے کے بعد یمنی سرزمین سے بقیہ افواج کا انخلاء شروع کر دیا تھا۔