مصر اس وقت خراب موسم اور شدید سردی کی لہر سے دوچار ہے، کیونکہ شدید سرد ہوا کا ایک سلسلہ پوری ملک میں چھایا ہوا ہے۔ جس کے نتیجے میں درجہ حرارت میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور یہ تاریخی سطح تک پہنچ گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی شمالی ساحل اور ڈیلٹا کے علاقوں میں مختلف شدت کی بارشیں بھی ہوئی ہیں۔
گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران گھنے بادلوں نے مصر کے مختلف صوبوں کے آسمان کو ڈھانپ لیا اور سرد ہواؤں کی سرگرمی کی وجہ سے دن اور رات دونوں اوقات میں شدید سردی کا احساس بڑھ گیا۔
اسی سلسلے میں محکمہ موسمیات نے اعلان کیا کہ بارش والے بادل آنے والے دنوں میں بھی مسلسل رہیں گےاور بعض علاقوں میں کم از کم درجہ حرارت میں شدید کمی کے باعث کھلی زمین اور فصلوں پر برف پڑنے کا امکان ہے۔
ماہر موسمیات ڈاکٹر منار غانم جو محکمہ موسمیات کی جنرل اسمبلی کی رکن ہیں، انھوںنے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو خصوصی بیان میں کہا کہ ملک اس وقت بحیرہ روم کے حوض میں موجود قبرصی ہوا کے دباؤ سے متاثر ہے، جس کی وجہ سے شمالی ساحلی علاقوں میں بارش کے ساتھ کم اور درمیانے درجے کے بادل پیدا ہو گئے ہیں، اس کا اثر کئی دیگر علاقوں تک بھی پھیلا ہوا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ کم دباؤ والے علاقے کے اثرات بلند فضائی سطح کے کم دباؤ کے ساتھ مطابقت میں ہیں، جس کی وجہ سے آنے والے دنوں میں بارش والے بادل سرگرم رہیں گے، جن کی شدت علاقوں کے لحاظ سے مختلف ہوگی۔
ڈاکٹر غانم نے کہا کہ یہ موسمی حالات موسمِ سرما کی فطری خصوصیات میں شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ کا عرصہ خاص طور پر اگلے دو مہینوں میں درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے، یعنی کچھ عرصے کے لیے درجہ حرارت مستحکم رہ سکتا ہے، جس کے بعد دوبارہ کمی آ جائے گی، جو کہ موسمِ سرما میں معمول کی بات ہے۔
ڈاکٹر غانم نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ خصوصاً رات اور صبح کے ابتدائی اوقات میں موٹی سردی کی کپڑے پہنیں اور بارش کے دوران گاڑی چلاتے وقت احتیاط برتیں ۔