وینزویلا کے صدارتی محل کے قریب پیر کے اواخر میں گولیاں چلائی گئیں، عینی شاہدین نے بتایا۔ صدر نکولس مادورو کی امریکی افواج کے ہاتھوں گرفتاری کے چند دن بعد یہ اطلاع سامنے آئی۔
حکومت کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ صورتِ حال قابو میں تھی۔
رات تقریباً آٹھ بجے وسطی کراکس میں میرافلورس محل پر نامعلوم ڈرون کی پرواز دیکھی گئی جس کے جواب میں سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کی، ذرائع نے بتایا۔ مادورو کی برطرفی کے بعد ان کی نائب ڈیلسی روڈریگوز کے بطور عبوری صدر حلف برداری کے چند ہی گھنٹے میں یہ واقعہ پیش آیا۔
محل سے پانچ بلاکس پر رہنے والے ایک شخص کے مطابق گولی چلنے کی آوازیں آئیں لیکن اتنی زوردار نہیں تھیں جتنی ہفتے کو علی الصبح حملے میں سنی گئی تھیں جس کے نتیجے میں مادورو کو معزول کر دیا گیا تھا۔ یہ صورتِ حال تقریباً ایک منٹ تک جاری رہی۔
محل کے قریبی رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "ذہن میں آنے والی پہلی بات یہ تھی کہ آیا اوپر ہوائی جہاز اڑ رہے تھے لیکن ایسا نہیں تھا۔ میں نے آسمان پر دو سرخ بتیاں دیکھیں۔ ہر کوئی اپنی کھڑکیوں سے باہر جھانک رہا تھا یہ دیکھنے کے لیے کہ آیا کوئی جہاز تھا اور یہ کہ کیا ہو رہا تھا۔"
وزارتِ مواصلات نے تبصرے کے لیے اے ایف پی کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ روشنی پیدا کرنے والی گولیاں آسمان میں چلائی گئی ہیں۔ (روشنی پیدا کرنے والی گولیاں ایک شعلہ چھوڑتی ہیں جس سے گولی کی سمت/راستے کا پتا چل جاتا ہے)۔
ویڈیو میں سکیورٹی فورس کے کئی ارکان گولیاں چلنے کے بعد محل کی طرف بھاگتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔