امریکہ : 'واشنگٹن پوسٹ' سے وابستہ صحافی کے گھر پر 'ایف بی آئی' کا چھاپہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکہ کے وفاقی ادارہ برائے تحقیقات 'ایف بی آئی' نے 'واشنگٹن پوسٹ' سے تعلق رکھنے والی ایک صحافی کے گھر پر بدھ کے روز چھاپہ مارا اور اس کے گھر کی تلاشی لی۔

'ایف بی آئی' حکام کا کہنا ہے کہ وہ تحقیقات کر رہے ہیں کہ اس صحافی کے پاس حکومتی رازوں سے متعلق دستاویزات ہیں۔ یہ بات امریکہ کے ایک بڑے اخبار 'نیو یارک ٹائمز' نے بدھ کے روز شائع کی ہے۔

'واشنگٹن پوسٹ' کی رپورٹر نے حال ہی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ہزاروں سرکاری کارکنوں کو ملازمتوں سے فارغ کرنے کی مہم کی کوریج کی تھی۔ جس سے مبینہ طور پر امریکی انتظامیہ کو تکلیف پہنچی تھی۔

ملازمتوں سے فارغ کرنے اور باقی ماندہ کو دوسری جگہوں پر منتقل کرنے کی وجہ امریکی انتظامیہ یہ بتا رہی ہے کہ وہ حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانا چاہتی ہے اور بوجھ کم کرنا چاہتی ہے۔

'واشنگٹن پوسٹ' کی رپورٹر ھنہ ناتینسن نے اپنی یہ سٹوری ماہ دسمبر میں شائع کی تھی اور کہا تھا کہ یہ ایک ظالمانہ اقدام ہے۔

اس نے کہا اسے موجودہ و سابق سرکاری ملازمین کی طرف سے بے شمار ایسے میسج موصول ہوئے ہیں جس میں حکومتی پالیسی پر سخت مایوسی کا اظہار کیا گیا تھا۔ تاہم اب اپنے گھر پر چھاپے کے سلسلے میں بات کرنے کے لیے 'واشنگٹن پوسٹ' کی یہ خاتون رپورٹر سے 'نیو یارک ٹائمز' کا رابطہ نہیں ہو سکا۔ جبکہ 'واشنگٹن پوسٹ' کے ترجمان نے کہا ہے کہ اخبار اس صورتحال کو مانیٹر کر رہا ہے اور جائزہ لے رہا ہے۔

'واشنگٹن پوسٹ' نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر لکھا ہے کہ تحقیقات کرنے والوں نے کہا ہے کہ وہ خاتون رپورٹر کے خلاف تحقیقات پر فوکس نہیں کر رہے ہیں۔ البتہ وارنٹس کے مطابق قانون نافذ کرنے اور تحقیقات کرنے کا انتظامی سسٹم موجود ہے اور اس کے مطابق کام کیا جا رہا ہے کیونکہ اس خاتون رپورٹر کے بارے میں الزام ہے کہ اس نے انٹیلی جنس کی خفیہ رپورٹس اپنے گھر میں رکھی ہیں۔

'ایف بی آئی' اور محکمہ انصاف نے 'نیو یارک ٹائمز' کی اس رپورٹ کے لیے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں