ہم غزہ انتظامی کمیٹی کی کامیابی کے خواہش مند ہیں: مصری انٹیلی جنس چیف
مصری جنرل انٹیلی جنس کے سربراہ میجر جنرل حسن رشاد نے غزہ کی پٹی کی انتظامی کمیٹی کے سربراہ علی شعث اور اس کے ارکان سے ملاقات کی اور اس دوران زور دیا کہ مصر اس کمیٹی کے کام کی کامیابی اور پٹی کے اندر اس کے فرائض کی انجام دہی میں تعاون کا ہمیشہ سے خواہش مند ہے۔ علی شعث اور کمیٹی کے ارکان نے غزہ کے حوالے سے مصر کی کوششوں کو سراہا اور صدر عبدالفتاح السیسی کے موقف، خاص طور پر فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی مخالفت اور مسئلہ فلسطین کے تحفظ کے حوالے سے ان کے کردار کی تعریف کی۔
انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ کمیٹی کی ترجیحات میں غزہ کے شہریوں کی انسانی اور معیشتی حالت کو بہتر بنانا شامل ہے۔ انہوں نے تمام گزرگاہیں کھولنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ فلسطینیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ امدادی سامان اور ضروریاتِ زندگی پہنچائی جا سکیں۔ ملاقات کے دوران ان ضروری اقدامات پر بھی مشاورت کی گئی جو کمیٹی کو پٹی کے اندر اپنی مکمل ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل بنائیں تاکہ انسانی حالات کی بہتری اور استحکام میں مدد مل سکے۔
جنگ اور تقسیم کے بڑے اثرات
یاد رہے غزہ انتظامی کمیٹی نے جمعہ کو مصری دارالحکومت میں اپنے پہلے اجلاس کے انعقاد کے ساتھ ہی کئی سنگین مسائل اور معاملوں پر غور شروع کر دیا ہے جو فوری ترجیح کے حامل ہیں۔ ان اجلاسوں کے آغاز نے ترقیاتی امور کے ماہر علی شعث کی سربراہی میں کام کرنے والی اس کمیٹی کو جنگ اور داخلی تقسیم کے سنگین نتائج کے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔ اس کمیٹی کا مقصد ایک عارضی عبوری مرحلے کی قیادت کرنا ہے جو جنگ کے اثرات کا مداوا کرے اور انسانی بحران کو کم کرے۔ اس کے لیے امدادی کوششوں میں ہم آہنگی، تعمیرِ نو اور زمینی حالات کی بہتری پر توجہ دی جائے گی۔ تاہم یہ کمیٹی بین الاقوامی سیاسی فریم ورک کے تحت کام کرتی ہے اور اس کے فرائض خدمات اور امداد تک محدود ہیں۔ اس کا کسی بھی قسم کے بڑے فیصلہ کن فیصلوں سے تعلق نہیں ہے۔